Fatwa #953
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
نعوذ باللہ خدا کو جہنمی کہنے والے کے لئے کیا حکم ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,186
سوال (Question):
نعوذ باللہ خدا کو جہنمی کہنے والے کے لئے کیا حکم ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
خدا کو جہنمی کہنے والے کے لئے کیا حکم ہے ؟
سوال : میں ایک مسجد میں امامت کا کام انجام دیتا ہوں ایک روز رمضان شریف کے ماہ میں جمعہ کے دن نماز سے پہلے ان اللہ مع الصابرین کی روشنی میں تقریر کرتے ہوئے آگے بڑھا ۔ یہاں تک کہ جمعہ کا خطبہ اور جمعہ کی فرض نماز جماعت کے ساتھ میں نے پڑھایا ۔ عصر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد میرے ہی موضع کے تین طالب علم نوجوان شخصوں نے مجھ پر اعتراض کیا کہ آیت مذکورہ کا ترجمہ کرتے ہوئے تقریر کے درمیان آپ نے یہ کہا ہے کہ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ اور صبر کرنے والے گناہ گار انسان جب جہنم میں جائیں گے تو خدا بھی اس انسان کے ساتھ جہنم میں جائے گا ۔ جبکہ میں نے اپنی تقریر کے درمیان کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں کیا ہے جس میں خدا کو جہنمی قرار دیا ہو ۔ اور میرے اس قول پر میرے مقتدی میں سے صرف ایک شخص میری بات کی تصدیق کرتا ہے ، باقی عوام کو کچھ کچھ یاد نہیں کہ میں نے کیا کہا ہے ۔ لہذا آپ حضور والا سے گزارش ہے کہ تین شخصوں کے کہنے کے مطابق میں اور ایک مقتدی کے مطابق از روئے شرع کس حکم کے سزاوار ہیں ۔ بینوا و توجروا نوٹ : خدا کو جہنمی قرار دینے والے کا عقد باقی رہا یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگر آپ نے یہ جملہ نہیں کہا ہے کہ صبر کرنے والے گناہ گار انسان جب جہنم میں جائیں گے تو خدا بھی اس انسان کے ساتھ جہنم میں جائے گا ۔مگر طلبہ اس جملہ کو آپ کی طرف منسوب کرتے ہیں تو وہ سخت گنہگار ہیں، توبہ کریں ۔ اور اگر طلبہ نے اس جملہ کو بطور معارضہ پیش کیا کہ جب اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے تو کیا صبر کرنے والے گناہ گار انسان جب جہنم میں جائیں گے تو خدا بھی اس انسان کے ساتھ جہنم میں جائے گا ، تو انہوں نے اپنی جہالت سے معیت مکانی سمجھ کر معارضہ پیش کیا ۔ حالانکہ معیت سے مراد معیت بالعون والنصر ہے جو متقین، محسنین اور صابرین کے ساتھ خاص ہے ۔ جیسا کہ تفسیروں میں مذکور ہے ۔ المعیۃ بالعون والنصر وھذا خاصۃ بالمتقین و الحسنین و الصابرین ۔ اور یا تو ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ نے معیت کے معنی کی تشریح نہیں کی جو عوام کے لیے ضروری تھی ۔ بہرحال اس انداز کی گفتگو سے احتراز لازم ہے ۔ و اللہ تعالی اعلم جواب نوٹ : استفتاء کی عبارت سے ظاہر یہ ہے کہ کسی نے خدائے تعالیٰ کو جہنمی نہیں قرار دیا ہے ۔ لیکن اگر کوئی خدائے تعالی کو جہنمی قرار دے نعوذ باللہ من ذالک تو اس کا نکاح ضروری ٹوٹ جائے گا کہ یہ صریح کفر ہے ۔ ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول، کتاب العقائد صفحہ 5 ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9