صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2819 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 22, 2025
0 11

سوال (Question):

نفلی صدقہ /چندہ کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

عرض خدمت  یہ ہےکہ ایک جامع مسجد کی تعمیر کیلئے چندہ کیا گیا ہے چندہ اتنا ہوا کہ مسجد کا تعمیری کام مکمل ہوگیا اور روپیہ بچ گئے ہیں مسجد کے ٹرسٹ اور ممبران جامع مسجد کا روپیہ دوسری مسجد میں لگانا چاہتے ہیں دوسری مسجد میں آمدنی کے کوئی ذرائع نہیں ہیں اور مسجد بوسیدہ ہوگئی ہے شریعت مطہرہ کے مطابق کوئی صورت ہو تو جواب عنایت فرمائیں یا پھر جامع مسجد کی رقم سے مسجد کی آمدنی کیلئے دکان مکان خرید کر کرایہ سے دے سکتے ہیں؟

برائے کرم حوالے کیساتھ مدلل جواب عنایت فرمائیں عین کرم ہوگا ۔

العارض محمد نذرالحق نوری

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):



وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب۔جس مسجد کی تعمیر کیلئے چندہ کیا گیا اسی کی تعمیر میں لگا سکتے ہیں تعمیر کے سوا اسی مسجد کیلئے دوسرے کسی کام میں صرف کرنے کی اجازت نہیں چہ جائیکہ دوسری مسجد پر صرف کریں البتہ تعمیر کے بعد جو روپیہ بچ گیا اسے تمام چندہ دہندگان کی اجازت سے دوسرے کار خیر میں صرف کر سکتے ہیں لہذا اگر تمام چندہ دہندگان دوسری مسجد پر صرف کی اجازت دے دیں تو صرف کر سکتے ہیں ورنہ نہیں اسی طرح دکان وغیرہ

فتاوی رضویہ میں جائز امور کے لئے چندہ کرنے اور اس کے مصرف کے بارے میں ہے”یہ پیسے نفلی صدقہ ہیں، جس خاص غرض کے لیے لیا گیا ہے اس کے غیر میں صرف نہیں کیا جا سکتا. اگر وہ غرض پوری ہوچکی ہو تو جس نے چندہ دیا ہے اس کو واپس کیا جائے یا اس کی اجازت سے دوسرے کام میں خرچ کیا جائے. اگر چندہ دہندگان موجود نہ ہو تو اس کے عاقل بالغ وارثوں کی طرف رجوع کی جائے اگر ان میں کوئی مجنون یا نابالغ ہے تو باقیوں کی اجازت صرف اپنے حصے کے قدر میں معتبر ہوگی صبی و مجنون کا حصہ خواہی نخواہی واپس دینا ہوگا، اور اگر وارث بھی نہ معلوم ہوں تو جس کام کے لئے چندہ دہندوں نے دیا تھا اسی میں صرف کریں، وہ بھی نہ بن پڑے تو فقراء پر تصدق کردیں، غرض بے اجازت مالکان امام کا اپنے لئے خرچ کرنا جائز نہیں چاہے مفلس ہو چاہے غنی. (١٣٤/١٦) اور ایسا ہی فتاوی امجدیہ (٣٩/٣) پر ہے.

واللہ تعالی اعلم

شان محمد مصباحی قادری

٣١ دسمبر ٢٠١٩

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh