صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #80 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم / عصر کے بعد نفل

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,836

سوال (Question):

نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم / عصر کے بعد نفل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں علمائے کرام کہ ایک شخص نے نماز عصر باجماعت ادا کی اور فورا اسی جگہ پرقضا نماز پڑھ سکتا ہے کہ نہیں ۔برائے کرم حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی محمد احمد رضا ایئرپورٹ روڈ کاٹھمانڈو نیپال الجواب: نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم قضا نماز تین وقت جائز نہیں ہے ۔ (١) طلوع یعنی سورج کی پہلی لکیر چمکنے سے لے کر(اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کے تجربات کے مطابق)بیس منٹ تک (٢) نصف النہار شرعی سے نصف النہار حقیقی تک (٣)سورج ڈوبنے کےبیس منٹ پہلے سے سورج ڈوبنے تک ۔ علامہ محقق علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: “(وَكُرِهَ) تَحْرِيمًا، وَكُلُّ مَا لَا يَجُوزُ مَكْرُوهٌ (صَلَاةٌ) مُطْلَقًا (وَلَوْ) قَضَاءً أَوْ وَاجِبَةً أَوْ نَفْلًا أَوْ (عَلَى جِنَازَةٍ وَسَجْدَةَ تِلَاوَةٍ وَسَهْوٍ) لَا شُكْرٍ قُنْيَةٌ (مَعَ شُرُوقٍ)۔۔۔(واستواء) (وَغُرُوبٍ، إلَّا عَصْرَ يَوْمِهِ)”(در مختارج٢ ص٣٠، ٣١،٣٢ملتقطا) اور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “طلوع و غروب و نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں ۔ نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ قضا ۔ یوہیں سجدہ تلاوت و سجدہ سہو بھی ناجائز ہے ۔ البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں پڑھی تو اگرچہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے ،مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے ۔ حدیث میں اس کو منافق کی نماز فرمایا۔ طلوع سے مراد آفتاب کا کنارہ ظاہر ہونے سے اس وقت تک ہے کہ اس پر نگاہ خیرہ ہونے لگے جس کی مقدار کنارہ چمکنے سے ۲۰ منٹ تک ہے اور اس وقت سے کہ آفتاب پر نگاہ ٹھہرنے لگے ڈوبنے تک غروب ہے، یہ وقت بھی ۲۰ منٹ ہے ۔ نصف النہار سے مراد نصف النہار شرعی سے نصف النہار حقیقی یعنی آفتاب ڈھلکنے تک ہے ۔ جس کو ضحوۂ کبریٰ کہتے ہیں یعنی طلوع فجر سے غروب آفتاب تک آج جو وقت ہے، اس کے برابر برابر دو حصے کریں ، پہلے حصہ کے ختم پر ابتدائے نصف النہار شرعی ہے اور اس وقت سے آفتاب ڈھلنے تک وقت استوا و ممانعت ہر نماز ہے ۔” (بہار شریعت حصہ ٣ص۴۵۴) ان حوالوں سے واضح ہے کہ عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب سے بیس منٹ پہلے تک قضا نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں ۔ لیکن جس شخص نے عصر کی نماز باجماعت ادا کی ہو تو اس کو اسی جگہ قضا نماز منع ہے، گھر پر تنہائی میں پڑھے ۔کیوں کہ اس طرح قضا کی نماز پڑھنے میں اظہار معصیت ہے کیوں کہ نماز قضا کرنا معصیت ہے ۔ اب چوں کہ عصر کی نماز کے بعد نفل نماز مکروہ ہے اس لیے دیکھنے والے کو اپنی قضا کردہ نمازوں سے باخبر کرنا ہوگا۔ اسی وجہ سے وتر کی قضا اگر لوگوں کی موجودگی میں پڑھے تو تکبیرِ قنوت کے لیے ہاتھ اٹھانے کا حکم نہیں ہے ۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:(قَوْلُهُ رَافِعًا يَدَيْهِ) أَيْ سُنَّةً إلَى حِذَاءِ أُذُنَيْهِ كَتَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ، وَهَذَا كَمَا فِي الْإِمْدَادِ عَنْ مَجْمَعِ الرِّوَايَاتِ لَوْ فِي الْوَقْتِ، أَمَّا فِي الْقَضَاءِ عِنْدَ النَّاسِ فَلَا يَرْفَعُ حَتَّى لَا يَطَّلِعَ أَحَدٌ عَلَى تَقْصِيرِهِ. اهـ.(ردالمحتارج٢ص۴۴٢) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: اور اگر بوجہ خاص بعض اشخاص کی نماز جاتی رہی تو گھر میں تنہا پڑھیں کہ معصیت کا اظہار بھی معصیت ہے قضا حتی الامکان جلد ہو ، تعیین وقت کچھ نہیں ایک وقت میں سب وقتوں کی پڑھ سکتا ہے ، درمختار میں ہے: یکرہ قضاء ھا فیہ ( ای فی المسجد) لان التاخیر معصیۃ فلا یظھر ھا ۔ بزازیۃ ” (فتاوی رضویہ ج٣ ص٦٢۴)۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری : خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔ ٧/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٠/اپریل ٢٠٢١ء

Alimi Darul Ifta Jamia Alimia Jamda shahi Basti

 

وہابی امام کے پیچھے نماز اور کھڑے ہوکر اقامت سننے کا حکم

آکسیجن ماسک لگانا مفسد صوم ہے یا نہیں / روزہ کے اہم مسائل

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh