Fatwa #2002
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
نماز فجر میں امام التحیات میں ہو مقتدی کے لئے سنتیں پڑھنے کا حکم
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,665
سوال (Question):
نماز فجر میں امام التحیات میں ہو مقتدی کے لئے سنتیں پڑھنے کا حکم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
نماز فجر میں امام التحیات میں ہو مقتدی کے لئے سنتیں پڑھنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ بندہ وضو کر کے نماز فجر کے لئے ایسے وقت میں آیا کہ امام قعدہ اخیرہ میں ہے، اب سنت پڑھتا ہے تو جماعت جاتی ہے اور جماعت میں ملتا ہے تو سنتیں فوت ہوجائیں گی اس صورت میں سنتیں پڑھے یا قعدہ میں مل جائے، اور قعدہ میں ملنے سے اگر سنتیں رہ جائیں تو کس وقت پڑھیں؟ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب مذکورہ صورت میں اس نمازی کو چاہیے کہ جماعت میں شامل ہو جائے اور سنتیں بعد میں پڑھ لے کیونکہ نماز فجر میں نمازی کے لئے حکم یہ ہے کہ اگر یہ جانتا ہو کہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں شامل ہوجائے گا تو پہلے سنتیں پڑھ لے اور اگر یہ گمان ہو کہ سنتیں پڑھوں گا جماعت نکل جائے گی تو جماعت میں شریک ہو جائے اور سنتیں طلوع آفتاب کے 20منٹ بعد پڑھ لے- (سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، کہ اس صورت میں بالاتفاق جماعت میں شریک ہوجائے کہ جماعت میں ملنا سنتیں پڑھنے سے اہم وآکد ہے، جب یہ جانے کہ سنتیں پڑھوں گا تو جماعت ہوچکے گی بالاتفاق جماعت میں مل جانے کا حکم ہے اگر چہ ابھی امام رکعت ثانیہ کے شروع میں ہو، قعدہ تو ختم نماز ہے اس میں کیونکہ امید ہو سکتی ہے کہ امام کے سلام سے پہلے یہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں مل سکے گا- (سیدی اعلیٰ حضرت مزید تحریر فرماتے ہیں، جبکہ فرض فجر پڑھ چکا تو سنتیں سورج بلند ہونے سے پہلے ہرگز نہ پڑھے، ہمارے ائمہ رحمہم ﷲ تعالٰی عنہم کا اس پر اجماع ہے بلکہ پڑھے تو سورج بلند ہونے کے بعد دوپہر سے پہلے پڑھ لے، نہ اس کے بعد پڑھے نہ اس سے پہلے- (ردالمحتارمیں ہے، اذا فاتت وجدھا فلاتقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع لکراھۃ النفل بعد الصبح، واما بعد طلوع الشمس فکذالك عندھما وقال محمد احب الی ان یقضیھا الی الزوال- جب اکیلی سنن رہ گئی ہوں تو بالاجماع طلوع آفتاب سے پہلے انہیں قضانہ کرے کیونکہ اس وقت نفل نماز مکروہ ہے۔ رہا طلوع آفتاب کے بعد کا تو شیخین کے نزدیک یہی حکم ہے، مگر امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، کہ زوال سے پہلے پہلے ان کا ادا کر لینا مجھے پسند ہے- (ردالمحتار باب ادراک الفریضۃ مطبوعہ سعیدکمپنی کراچی،جلد2،صفحہ57) (بحوالہ فتاویٰ رضویہ جلد7 صفحہ424تا 425-مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9