صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #339 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ننگے بدن غسل جائز ہے یا نہیں از مفتی شان محمد القادری

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,340

سوال (Question):

ننگے بدن غسل جائز ہے یا نہیں از مفتی شان محمد القادری

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

موضع احتیاط میں ننگے بدن غسل جائز ہے

السلام علیکم ورحمۃاللہ

ایک سوال ہے کہ تنہا اور برہنہ ہوکر غسل کرنا کیسا ہے کیا اس طرح کرنے سے غسل ہو جائیگا

سائل:محمد نسیم اختر مجاہدی

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب ۔

١.تنہا برہنہ ہوکر غسل کرنا جائز ہے جبکہ ایسی جگہ ہو جہاں کسی کی نظر پڑنے کا احتمال نہ ہو کہ لوگوں کے سامنے ستر کھولنا حرام و گناہ ہے۔

٢۔برہنہ ہوکر غسل کرنے سے غسل ہو جاے گا۔

ہندیہ کے سنن و آداب غسل کے بیان میں ہے “وﺃﻥ ﻳﻐﺘﺴﻞ ﻓﻲ ﻣﻮﺿﻊ ﻻ ﻳﺮاﻩ ﺃﺣﺪ ﻭﻳﺴﺘﺤﺐ ﺃﻥ ﻻ ﻳﺘﻜﻠﻢ ﺑﻜﻼﻡ ﻗﻂ ﻭﺃﻥ ﻳﻤﺴﺢ ﺑﻤﻨﺪﻳﻞ ﺑﻌﺪ اﻟﻐﺴﻞ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﻨﻴﺔ” (ج١،ص١٤)۔

بہار شریعت میں ہے “اگر غُسل خانہ کی چھت نہ ہو یا ننگے بدن نہائے بشرطیکہ موضع احتیاط ہو تو کوئی حرج نہیں اھ”(ح٢،ص٣٢٠)۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ: مفتی شان محمدالمصباحی القادری

٢٩مارچ٢٠٢٠

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh