صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #489 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,456

سوال (Question):

ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ | بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مسںٔلہ ذیل کے بارے۔میں اگر ٹوپی نہیں پہنی تو نماز کے دوران تو کیا حکم نافز ہوگا جواب عنایت فرماۓ

سائل ــ: افضل انصاری بریلی شریف

وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ

الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

فتاوی رضویہ شریف میں ھے. فقہاء کرام نے ننگے سر نماز پڑھنے کی تین قسم کی ہے اگر بہ نیت تواضع وعاجزی ہو تو جائز اور بوجہ کسل ہو تومکروہ، اور معاذﷲ نماز کو بے قدر اور ہلکا سمجھ کر ہوتو کفر، اور ایسی وضع جس پر انگلیاں اُٹھیں شرعًا مکروہ، مجمع البحار وغیرہ میں ہے: الخروج عن عادۃ البلد شھرۃ ومکروہ” اہل شہر کے معمول سے نکلنا شہرت اور مکروہ ہے ــ

(جلد 7 صفحہ 389 )

   بہار شریعت میں ھے سُستی سے ننگے سر نماز پڑھنا یعنی ٹوپی پہننا بوجھ معلوم ہوتا ہو یا گرمی معلوم ہوتی ہو، مکروہ تنزیہی ہے اور اگر تحقیر نماز مقصود ہے، مثلاً نماز کوئی ایسی مہتم بالشان چیز نہیں جس کے لیے ٹوپی، عمامہ پہنا جائے تو یہ کفر ہے اور خشوع خضوع کے لیے سر برہنہ پڑھی، تو مستحب ہے ــ

( جلد 1حصہ 3 صفحہ633 )

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم

مفتی محمدرضا مرکزی

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

خادم التدریس والافتا

الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh