صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #270 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

مقروض شخص پر زکوٰۃ کا حساب اور حکم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh تاریخ: August 12, 2026
0 8,154

سوال (Question):

اگر کسی کے پاس نصاب جتنا مال ہو لیکن اس پر قرض بھی ہو تو زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

زکوٰۃ کا حساب کرتے وقت کل مالیت میں سے واجب الادا قرض کو منہا (Minus) کیا جائے گا۔ اگر قرض نکالنے کے بعد باقی مال نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) تک پہنچتا ہے تو زکوٰۃ فرض ہے، ورنہ نہیں۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh