Fatwa #2051
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
نکاح میں ایک ہی گواہ ہو اور دوسرا گواہ موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں نکاح کا کیا حکم
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,445
سوال (Question):
نکاح میں ایک ہی گواہ ہو اور دوسرا گواہ موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں نکاح کا کیا حکم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اگر مجلسِ نکاح میں ایک ہی گواہ ہو اور دوسرا گواہ موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں نکاح کا کیا حکم ہے؟
سائل: حافظ صادق اشرفی مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب نکاح میں گواہی کے لیے دو عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کا موجود ہونا ضروری ہے، محض ایک ہی گواہ کی گواہی سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوگا۔فتاوی ہندیہ میں ہے : “( ومنها: ) الشهادة قال عامة العلماء: إنها شرط جواز النكاح، هكذا في البدائع. وشرط في الشاهد أربعة أمور: الحرية والعقل والبلوغ والإسلام … ويشترط العدد فلاينعقد النكاح بشاهد واحد، هكذا في البدائع. ولايشترط وصف الذكورة حتى ينعقد بحضور رجل وامرأتين”. (6/418) ایجاب اور قبول‘ عقدِ نکاح کے بنیادی ارکان ہیں، مگر صرف ایجاب و قبول سے نکاح منعقد نہیں ہوتا۔ صحتِ نکاح کے لیے ایجاب و قبول‘ حق مہر کے عوض دو عاقل، بالغ مسلمان مرد گواہوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ہونا ضروری ہے۔ اور سمجھیں. اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے: لا نکاح الا بولی وشاھدی عدل (الجامع الصغیر للسیوطی: 9908) ’’ولی اور دو معتبر گواہوں کے بغیر نکاح درست نہیں۔‘‘ اگر دو مرد موجود نہ ہوں تو کم سے کم ایک مرد اور دوعورتوں کا ہونا ضروری ہے۔ اگر ایجاب و قبول کے وقت کوئی مرد نہ ہو، صرف عورتیں ہوں تو نکاح صحیح نہ ہوگا۔ گواہ لڑکے والوں کی طرف سے ہو سکتے ہیں، یا لڑکی والوں کی طرف سے، یا ایک گواہ لڑکے کی طرف سے ہو دوسرا لڑکی کی طرف سے، یا نکاح کے موقع پر موجود اجنبی لوگ بھی گواہ بن سکتے ہیں۔ گواہوں کی شرط اس لیے عائد کی گئی ہے کہ اگر کبھی بعد میں تنازعہ پیدا ہو اور فریقین میں سے کوئی نکاح کا انکار کرے تو یہ گواہ سامنے آکر کہہ سکیں کہ ہماری موجودگی میں یہ نکاح ہوا تھا۔ اگر مرد اور عوت خود اپنانکاح کر رہے ہیں تو ان میں سے کسی کے لیے اپنا وکیل بنانا ضروری نہیں، لیکن اگر وہ خود نکاح نہیں کر رہے ہیں اورکسی دوسرے کو واسطہ بنا رہے ہیں تو وہ ان کی طرف سے وکیل ہو سکتا ہے۔ کوئی شخص مرد کی طرف سے وکیل بن سکتا ہے اور عورت کی طرف سے بھی۔ وکیل کو چاہیے کہ وہ گواہوں کی موجودگی میں مرد یا عورت (جس نے اسے وکیل بنایا ہے) کی اجازت سے دوسرے کو باخبر کردے، تاکہ قبول کرنے والے کو اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ وہ کس کو قبول کر رہا ہے؟ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9