Fatwa #1017
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
نکاح میں دولہے کے لیے حفظ قرآن،نماز یا درود شریف کو بطور مہر مقرر کرنا
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,454
سوال (Question):
نکاح میں دولہے کے لیے حفظ قرآن،نماز یا درود شریف کو بطور مہر مقرر کرنا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
نکاح میں دولہے کے لیے حفظ قرآن،نماز یا درود شریف کو بطور مہر مقرر کرنا
الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب مہر کے لیے مالِ متقوم (یعنی وہ چیز جس کا قیمت والا مال ہونا شرع اور عرف میں مسلم ہو) کا ہونا ضروری ہے، اور اس کی کم از کم مقدار دس درہم ہے . نکاح میں شوہر کے حفظِ قرآن نماز اور درود شریف یا اس طرح کی کوئی چیز کو مہر بنانا درست نہیں ہے، اگر ان مذکورہ چیزوں کو بطورِ مہر مقرر کرکے نکاح کیا گیا تو نکاح منعقد ہوجائے گا، اور شوہر کے ذمے مہرِ مثل ادا کرنا لازم ہوگا۔ یعنی لڑکی کے خاندان میں اس طرح کی لڑکی کا جو مہر متعارف ہے، وہ ادا کرنا ہوگا۔ فتاوی شامی میں ہے: “(قوله: وفي تعليم القرآن) أي يجب مهر المثل فيما لو تزوجها على أن يعلمها القرآن أو نحوه من الطاعات لأن المسمى ليس بمال.” (كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:201) واللہ ورسولہ اعلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی مالیگاؤں
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9