صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1640 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

نکاح کے بعد چھ ماہ سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کا نسب ثابت مانا جائےگا یا نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,913

سوال (Question):

نکاح کے بعد چھ ماہ سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کا نسب ثابت مانا جائےگا یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

 

نکاح کے بعد چھ ماہ سے پہلے پیدا ہونے والے بچے کا نسب ثابت مانا جائےگا یا نہیں؟

  کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا نکاح صفر کی ۵/ تاریخ کو ہندہ سے ہوا اور اسی سال رجب المرجب کی ٢٨/ تاریخ میں ہندہ کو لڑکا پیدا ہوا بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہندہ کے بطن سے پیدا ہونے والا یہ لڑکا زید کا نہیں ہے اس لیے کہ یہ لڑکا نکاح کے وقت سے چھ ماہ مکمل ہونے سے پہلے پیدا ہوا ہے جب کہ زید دعویٰ کر رہا یہ لڑکا میرا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ کے بطن سے پیدا ہونے والے لڑکے کا نسب زید سے ثابت ہوگا یا نہیں ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ محمد نوشاد علیمی اشرفی ناسک الجواب اگر زید یہ کہے کہ نکاح سے پہلے ہندہ کے ساتھ میرے زنا سے یہ میرا لڑکا ہے تو اس لڑکے کا نسب زید سے ثابت نہ ہوگا لیکن اگر زید زنا کے ذکر کے بغیر یہ کہے کہ یہ میرا بچہ ہے تو اس کا نسب زید سے ثابت ہوجائے گا۔فتاوی عالم گیری میں ہے: “وَلَوْ زَنَى بِامْرَأَةٍ فَحَمَلَتْ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَوَلَدَتْ إنْ جَاءَتْ بِهِ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ فَصَاعِدًا ثَبَتَ نَسَبُهُ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ لِأَقَلَّ مِنْ سِتَّةِ أَشْهُرٍ لَمْ يَثْبُتْ نَسَبُهُ *إلَّا أَنْ يَدَّعِيَهُ وَلَمْ يَقُلْ: إنَّهُ مِنْ الزِّنَا أَمَّا إنْ قَالَ: إنَّهُ مِنِّي مِنْ الزِّنَا فَلَا يَثْبُتُ نَسَبُهُ وَلَا يَرِثُ مِنْهُ* كَذَا فِي الْيَنَابِيعِ.” (فتاوی عالم گیری،کتاب الطلاق، الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب ) ہاں! اگر زید اور ہندہ دونوں اقرار کرتے ہوں کہ ہمارے نکاح کو چھ ماہ سے کم زمانہ گزرا ہے تو ایسی صورت میں لڑکے کا نسب زید سےثابت نہ ہوگا۔اسی فتاوی عالم گیری میں ہے: “وَإِنْ تَصَادَقَا عَلَى أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا مُنْذُ شَهْرٍ لَمْ يَثْبُتْ النَّسَبُ مِنْهُ۔” (فتاوی عالم گیری ج١کتاب الطلاق، الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب) بہارِ شریعت میں ہے: “وقت نکاح سے چھ مہینے کے اندر بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت نہیں۔” (بہار شریعت ح ٨ص ٢۵٠) *یہاں ایک اعتراض* پیدا ہوتا ہے کہ جب شریعتِ طاہرہ نے حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ کو قرار دیا ہے ، اور صورتِ مسئولہ میں لوگ یہ جانتے ہیں کہ ہندہ سے نکاح کے بعد چھ ماہ سے پہلے ہی بچہ پیدا ہوا ہے تو زید کے دعوائے نسب کرنے کی صورت میں آخر کس طرح ثبوتِ نسب کا حکم ہوگا؟ تو اس کا حل یہ ہوسکتا ہے کہ چوں کہ شریعتِ طاہرہ بچہ کے نسب کی حفاظت میں بہت احتیاط فرماتی ہے۔لہذا جب میاں بیوی کو یہ اقرار نہیں ہے کہ ہمارے نکاح کو چھ ماہ سے کم وقت ہوا ہے تو ہوسکتا ہے کہ زید نے لوکوں کے سامنے علانیہ نکاح سے پہلے ہندہ کے ساتھ خفیہ نکاح کرلیا ہو اور پھر دوبارہ لوگوں کے سامنے علانیہ بھی نکاح کیا ہو اس لیے اگر زید زنا کا اقرار نہیں کر رہا ہے اور یہ بھی اقرار نہیں کررہا ہے کہ میرے نکاح کو چھ ماہ سے کم ہوئے ہیں تو ثبوتِ نسب کا حکم ہوگا۔ *ھذا ما ظھر لی والعلم بالحق عند المولی تعالی، وھو سبحانہ وتعالی اعلم*   *کتبہ:* محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١٦/شعبان المعظم ١۴۴٣ھ //٢٠/مارچ ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh