صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1289 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

نیند سے وضو کب ٹوٹتا ہے ؟ / وضو کے مسائل

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,572

سوال (Question):

نیند سے وضو کب ٹوٹتا ہے ؟ / وضو کے مسائل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

نیند سے وضو کب ٹوٹتا ہے ؟

اکثر دیکھا گیا ہے مسجد کے اندر نماز کے انتظار میں لوگ بیٹھے ہیں اور انہیں نیند کی جھپکی آگئی یا اونگھنے لگے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا وضو ٹوٹ گیا اور وہ ازخود کسی کے ٹوکنے سے وضو کرنے لگتے ہیں یہ غلط ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اونگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وضو نہیں جاتا ہے۔ (بہار شریعت, ح۲ ، ص ۲۷) ترمذی اور ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسجد شریف میں نماز عشاء کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے سونے لگتے تھے یہاں تک کہ ان کے سر نیند کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے پھر وہ دوبارہ بغیر وضو کیے نماز پڑھ لیتے تھے۔ (مشکوۃ، باب مایوجب الوضو ، ص٤١)

نیند سے وضو تب ٹوٹتا ہے جب کہ یہ دو شرطیں پائی جائیں:

(١) دونوں سرین اس وقت خوب جمے نہ ہوں۔ (٢) سونے کی حالت غافل ہوکر سونے سے مانع نہ ہو۔۔ (فتاویٰ رضویہ ج۱، ص۷۱) چت یا پٹ یا کروٹ سے لیٹ کر سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اکڑوں بیٹھا ہو اور ٹیک لگا کر سوگیا تو بھی وضو ٹوٹ جائے گا، پاؤں پھیلا کر بیٹھے بیٹھے سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا خواہ ٹیک لگائے ہوئے ہو ۔ کھڑے کھڑے یا چلتے ہوئے یا بحالت نماز قیام میں یار کوع میں یا دو زانوں سیدھے بیٹھ کر یا سجدے میں جو طریقہ مردوں کے لیے سنت ہے اس پر سو گیا تو وضو نہیں جائے گا ۔ ہاں اگر نماز میں نیند کی وجہ سے گر پڑا اگر فور آنکھ کھل گئی تو ٹھیک ورنہ وضو جاتا رہا۔ بیٹھے ہوئے اونگھنے اور جھپکی لینے سے وضو نہیں جاتا۔ ماخوذ از غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح / علامہ تطہیر احمد رضوی بریلی شریف 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh