صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #324 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

بچوں کی تربیت میں سختی اور مار پیٹ کی حد

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh تاریخ: August 12, 2026
0 7,588

سوال (Question):

بچوں کو شرارت پر یا نماز نہ پڑھنے پر مارنے کی شرعی حد کیا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

شریعت نے 10 سال کی عمر پر نماز چھوڑنے پر ہلکی مار کی اجازت دی ہے۔ اس کے علاوہ بھی تادیب کے لیے ہلکی سزا دی جا سکتی ہے، لیکن چہرے پر مارنا، غصے میں بے تحاشہ پیٹنا یا ایسی مار جس سے نشان پڑ جائے، شرعاً حرام اور ظلم ہے۔ نرمی سے سمجھانا بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh