Fatwa #2617
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
والدین کی نافرمانی کرنے والوں کا حکم از :محمد مکی القادری عفی عنہ
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,210
سوال (Question):
والدین کی نافرمانی کرنے والوں کا حکم از :محمد مکی القادری عفی عنہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
والدین کی نافرمانی کرنے والوں کا حکم
سوال:حضرت ایک نوجوان ہے جو اپنے والدین کی نافرمانی کرتا ہے ، کچھ لوگ اور دو تین حضرت لوگوں نے بھی سمجھایا پر وہ اپنے والدین کی نافرمانی سے باز نہیں آتا کہتا ہے اللہ دیکھ رہا ہے وہ لوگ بھی (والدین)ہمارے ساتھ برا کیے ہیں حضرت آپ اس نوجوان کو نصیحت کر دیں ؟الجواب بعون الوہاب
حیث شریف میں آیا کہ ماں باپ تمہارے لیے جنت ہیں اور جہنم ( یعنی جس نے انہیں راضی کیا اس کے لیے جنت اور جس نے انہیں ناراض کیا اس کے لیے جہنم ہے) اور یہ بھی حدیث پاک میں آیا کہ دعا اولاد کے حق میں ایسے ہی ہے جیسے نبی کی دعا امتی کے حق میں ۔ یہاں تک حدیث پاک میں آیا جب کوئی شخص اپنے والدین کے لیے دعا کرنا بند کر دے تو اللہ تعالی اس کے رزق میں کمی فرما دیتا ہے ۔ والدین کی نافرمانی نہایت عظیم گناہ ہے ‘اس کی سزادنیا میں بھی ملتی ہے جیسا کہ الترغیب والترھیب کتاب البر والصلۃجلد٣صفحہ٥٢٢ میں ہے ’’عن ابی بکرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کل الذنوب یوخراللہ منھا ماشاء الی یوم القیامۃ الاعقوق الوالدین فأن اللہ یعجلہ لصاحبہ فی الحیوۃ قبل الممات ‘‘ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :تمام گناہوں میں سے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے قیامت تک موخر فرماتا ہے سوائے والدین کی نافرمانی کے ،اللہ تعالی اس شخص کو موت سے پہلے زندگی میں ہی اس کی سزادیتاہے۔ والدین کے اولاد پر اس قدر احسانات ہوتے ہیں کہ اگر اولاد اپنا سب کچھ صرف کردے تب بھی یہ ان عظیم احسانات وعنایات کا بدلہ نہیں ہوسکتا ، بخاری شریف جلد٢صفحہ٣٨٨میں حدیث پاک ہے:’’ عن ابی ہریرۃ قال جاء رجل الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ من احق بحسن صحابتی؟ قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال ابوک ‘‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا :یارسول اللہ میر ے اچھے برتاؤ کا زیادہ حقدار کون ہے ؟توحضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہاری ماں ،عرض کیا پھر کون؟ فرمایا تمہاری ماں، عرض کیا پھرکون؟ فرمایا تمہاری ماں ، عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا تمہارے والد۔ لہذا سعادت مند اولاد کافریضہ یہ ہے کہ وہ والدین کی خدمت کرے اور ان سے حسن سلوک کو اپنا شعار بنا لے اور اپنے والدین کے ساتھ بد سلوکی پر ان سے معافی مانگے کیونکہ نیک برتاؤ اور حسن سلوک کے حقدار سب سے پہلے والدین ہیں، نصیحت۔: ١ – لوگوں کو چاہیے کہ اپنے والدین کے حقوق ادا کریں کیونکہ یہ فرض ہے، اور ہر جائز کام میں والدین کی فرمانبرداری کریں کیونکہ یہ ضروری ہے. ٢- والدین کی تعظیم کریں ان کا دل کبھی نہ دکھائیں اگرچہ ماں باپ اولاد پر کچھ زیادتی ہی کیوں نہ کریں . ٣- والدین کی ہر خواہش پوری کرنی چاہیے. ٤- والدین کا انتقال ہو جائے تو ان کی قبر کی زیارت کریں اور ان کو ایصال ثواب کریں. ٥- ماں کے پیروں کے نیچے جنت ہے اور والد ہمارے لیے جنت کا دروازہ ہے لہذا ان کو خوش رکھنے کی کوشش کریں کیونکہ ان کو خوش کرنے میں اللہ تعالی کی خوشی ہے اور ان کو ناراض رکھنے میں اللہ تعالی کی ناراضگی ہے. واللہ تعالی اعلم بالصواب. از :محمد مکی القادری عفی عنہ استاذ و مفتی الحنفیہ الاسلامیہ عربی گلرس اکیڈمی گورکھپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9