صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #298 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

وضو میں پیر دھلنے کا طریقہ از شان محمد المصباحی القادری

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,238

سوال (Question):

وضو میں پیر دھلنے کا طریقہ از شان محمد المصباحی القادری

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

وضو میں پیر دھلنے کا طریقہ از شان محمد المصباحی القادری

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید وضو کرتے ہوئے دونوں پیر بائیں ہاتھ سے دھل کے وضو سے فارغ ہوا بکر کہتا ہے کہ داہنا پیر داہنے ہاتھ سے دھلنا چاہیے اور بایاں پیر بائیں ہاتھ سے دونو میں درست طریقہ کیا ہے کرم فرما کر جلد از جلد بحوالہ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں

المستفتی : عظیم الدین قادری

 الجواب۔

پیروں کے دھلنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے پانی ڈالیں اور بائیں ہاتھ سے دھلیں۔ در مختار مع ردالمحتار میں ہے “ﻗﻮﻟﻪ ﻭﻏﺴﻞ ﺭﺟﻠﻴﻪ ﺑﻴﺴﺎﺭﻩ ﻟﻌﻞ اﻟﻤﺮاﺩ ﺑﻪ ﺩﻟﻜﻬﻤﺎ ﺑﺎﻟﻴﺴﺎﺭ ﻟﻤﺎ ﻗﺪﻣﻨﺎﻩ ﺃﻧﻪ ﻳﻨﺪﺏ ﺇﻓﺮاﻍ اﻟﻤﺎء ﺑﻴﻤﻴﻨﻪ ﺛﻢ ﺭﺃﻳﺖ ﻓﻲ ﺷﺮﺡ اﻟﺸﻴﺦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﻗﺎﻝ ﻳﻔﺮﻍ اﻟﻤﺎء ﺑﻴﻤﻴﻨﻪ ﻋﻠﻰ ﺭﺟﻠﻴﻪ ﻭﻳﻐﺴﻠﻬﺎ ﺑﻴﺴﺎﺭﻩ اﻩ.ﻭﺃﺧﺮﺝ اﻟﺴﻴﻮﻃﻲ ﻓﻲ اﻟﺠﺎﻣﻊ اﻟﺼﻐﻴﺮ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﺇﺫا ﺗﻮﺿﺄ ﺃﺣﺪﻛﻢ ﻓﻼ ﻳﻐﺴﻞ ﺃﺳﻔﻞ ﺭﺟﻠﻴﻪ ﺑﻴﺪﻩ اﻟﻴﻤﻨﻰ”

(ردالمحتار،ج١ص١٣٠، ش)

بہار شریعت وضو کے مستحبات کے بیان میں ہے “پاؤں کو بائیں ہاتھ سے دھونا”(مستحب ہے) (بہار شریعت،ح2ص298)

واللہ تعالی اعلم .

شان محمد المصباحی القادری

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh