Fatwa #1555
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
وعظ و تقریر کی شرطیں | کیا ہر کوئی تقریر کر سکتا ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,683
سوال (Question):
وعظ و تقریر کی شرطیں | کیا ہر کوئی تقریر کر سکتا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
وعظ و تقریر کی شرطیں
مجدد ملت سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان حنفی متوفی ١٣٤٠ھ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : واعظ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ مسلمان ہو۔ دیوبندی عقیدے والے مسلمان ہی نہیں ان کا وعظ سننا حرام اور دانستہ انہیں واعظ بنانا کفر علمائے حرمین شریفین نے فرمایا ہے کہ: من شک فی کفرہ وعذابه فقد کفر (1) جس نے ان کے کفر اور عذاب میں شک کیا اس نے کفر کیا۔(ت) (1) الدرالمختار کتاب الجہاد باب المرتد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۳۵۶) حسام الحرمین علی منحر۔الکفر والمین مطبع اہلسنت وجماعت بریلی ص ۹۴) اسی طرح تمام وہابیہ و غیر مقلدین فانّھم جمیعا اخوان الشیاطین ۔ (کہ وہ سب شیطانوں کے بھائی ہیں۔ت) دوسری شرط سنی ہونا غیر سنی کو واعظ بنانا حرام ہے اگرچہ بالفرض وہ بات ٹھیک ہی کہے۔ حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من وقر صاحب بدعة فقد اعان علٰی ھدم الاسلام (2) جس نے کسی بدمذہب کی توقیر کی اس نے دین اسلام کے ڈھانے پر مدد دی۔ (2) کنزالعمال حدیث ۱۱۰۲ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۲۱۹) (3) تیسری شرط عالم ہونا جاہل کو واعظ کہنا ناجائز ہے جیسا کہ ارشاد ہے:اتخذالناس رؤسا جھالا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا ۔(3) لوگوں نے جاہلوں کو سردار بنالیا پس جب ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بے علم احکام شرعی بیان کرنے شروع کئے تو آپ بھی گمراہ ہوئے اور اوروں کو بھی گمراہ کیا ۔ (3) صحیح البخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰) چوتھی شرط فاسق نہ ہونا ۔ تبیین الحقائق وغیرہ میں ہے:لان فی تقدیمه للامامة تعظیمه وقد وجب علیهم اھانته شرعاً.(4) کیونکہ اسے امامت کے لیے مقدم کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شرعاً مسلمانوں پر اس کی توہین واجب ہے۔(ت) (4) تبیین الحقائق باب الامامۃ والحدث فی الصلوۃ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱/ ۱۳۴) اور جب یہ سب شرائط مجتمع ہوں سنی صحیح القعیدہ عالم دین متقی وعظ فرمائے تو عوام کو اس کے وعظ میں دخل دینے کی اجازت نہیں وہ ضرور مصالح شرعیہ کا لحاظ رکھے گا ہاں اگر کسی جگہ کوئی خاص مصلحت ہو جس پر اُسے اطلاع نہیں تو پیش از وعظ مطلع کردیا جائے کہ یہاں یہ حالت ہے۔ وﷲ تعالٰی اعلم۔ (فتاوی رضویہ، ج٢٩، ص٧٠، ٧١، مسئلہ ١٤) مرتب مولانا فیضان سرور مصباحی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9