صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1914 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

وہابیہ لڑکی زید کی محبت میں اپنا مذہب بدل دے تو؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,899

سوال (Question):

وہابیہ لڑکی زید کی محبت میں اپنا مذہب بدل دے تو؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

وہابیہ لڑکی زید کی محبت میں اپنا مذہب بدل دے تو؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ مفتی صاحب آپ کی بارگاہ میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر وہابیہ دیوبندیہ لڑکی زید کی محبت میں اپنے مذہب اور تمام باطل عقائد کو چھوڑ کر سنیہ صحیح العقیدہ مومنہ ہو جائے تو کیا اس صورت میں بھی اس سے نکاح درست نہ ہوگا آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔ المستفتی آپ کا ادنیٰ سا محب محمد فاروق دیوان کھمبات ضلع آنند گجرات۔ بسم ﷲ الرحمن الرحیم وعلیکم السلام و رحمۃاللہ تعالیٰ وبرکاتہ۔ الجواب بعون الملک الوھاب وہابیہ لڑکی کا زید کی محبت میں اپنے عقائد باطلہ سے توبہ کرنا زید سے شادی کرنے کا بہانہ معلوم ہوتا ہے ، بارہا کا تجربہ ہے کہ وہابی لڑکیاں اور لڑکے شادی کرنے کے لئے بظاہر توبہ کرلیتے ہیں لیکن حقیقتاً اپنے باطل عقائد پر قائم رہتے ہیں اور بعد میں ان کے سبب پورا گھر وہابی بن جاتا ہے۔ لہذا صورت مستفسرہ میں وہابیہ لڑکی کے توبہ کرنے کے فوراً بعد اس سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تاوقتیکہ تین چار سال دیکھ کر اطمینان نہ کرلیا جائے کہ واقعی مذہب اہل سنت پر قائم ہے ۔ فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: ” اگر کسی کا یہ خیال ہو کہ توبہ کے بعد تو نکاح ہوجانا چاہئے تو اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ تجربہ شاہد ہے کہ دیوبندی لڑکے اور لڑکیاں سنیوں کے یہاں شادی کرنے کے لئے یا جو بیاہ ہوچکا ہے اس کو صحیح کرنے کے نام پر بظاہر توبہ کرکے نکاح کرالیتے ہیں مگر پھر حسب سابق وہ دیوبندی وہابی ہی رہتے ہیں اس لئے بعد توبہ فوراً وہابی یا وہابیہ سے نکاح کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے تاوقتیکہ تین چار سال دیکھ کر اطمینان نہ کرلیا جائے کہ واقعی وہ سنی مذہب پر قائم ہے ۔ ” اھ (فتاوی برکاتیہ, ص٣٢٦, کتاب النکاح, مطبوعہ ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی ۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh