صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #325 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

پیسوں کی کمیٹی (B.C) ڈالنے کا شرعی حکم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh تاریخ: August 12, 2026
0 7,800

سوال (Question):

کیا عام پیسوں کی کمیٹی (بی سی) ڈالنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اگر کمیٹی اس طرح ہو کہ سب لوگ برابر پیسے ڈالیں اور باری باری سب کو پوری رقم مل جائے (یہ قرضِ حسنہ کی ایک شکل ہے)، تو یہ بالکل جائز ہے۔ لیکن اگر کمیٹی بولی (نیلامی) کے ذریعے کھلے، جس میں رقم کٹ کر ملے، تو یہ سود اور قمار ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh