صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1715 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ٹیوب ویل کے پانی میں مرے جانور کی بدبو ہو تو کیا حکم ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,816

سوال (Question):

ٹیوب ویل کے پانی میں مرے جانور کی بدبو ہو تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ٹیوب ویل کے پانی میں مرے جانور کی بدبو ہو تو کیا حکم ہے؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام ایس مسئلہ کے بارے میں: ہمارے ایک ٹیوب ویل کے اندر بکری کا بچہ گر گیا ہے اور کافی دنوں کے بعد معلوم ہوا کہ پانی میں بدبو آرہی ہے اور وہ سڑ گل گیا ہے اب اس کا باہر نکالنا ممکن نہیں ہے تو اس صورت میں پانی پاک کیسے ہوگا؟ جواب عنایت فرمائیں برائے مہربانی جلدی سے جواب عطا فرمائیں ۔ سائل: عثمان قادری باڑمیر راجستھان الجواب اگر یقین یا ظن غالب ہے کہ پانی کی یہ بدبو اسی مرے ہوئے بکری کے بچہ کی وجہ سے ہے تو اس ٹیوب ویل کا پانی ٹھہرتے ہی یا ہاتھ یا برتن میں لیتےہی نجس ہوجائےگا۔اور جب تک وہ کسی تدبیر سے نکال نہ دیا جائے اس ٹیوب ویل کے پانی سے وضو غسل کرنا یا پینا یا کپڑا دھونا درست نہ ہوگا۔ ہاں! جب اس کے اجزاء ریزہ ریزہ ہوکر نکل جائیں کہ نہ تو پانی میں اس کے اجزاء نظر آئیں اور نہ ہی اس کی بد بو باقی رہ جائے تو اب ٹیوب ویل کا پانی پاک ہوگا۔فتاوی عالم گیری میں ہے ۔ “وَإِذَا أُلْقِيَ فِي الْمَاءِ الْجَارِي شَيْءٌ نَجَسٌ كَالْجِيفَةِ وَالْخَمْرِ لَا يَتَنَجَّسُ مَا لَمْ يَتَغَيَّرْ لَوْنُهُ أَوْ طَعْمُهُ أَوْ رِيحُهُ، كَذَا فِي مُنْيَةِ الْمُصَلِّي۔” (فتاوی عالم گیری ج١ ص١٧) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ٧/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ٩/اپریل ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh