Fatwa #1179
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
پانی کا کاروبار کرنا کیسا ؟ / پانی کی خرید و فروخت کے احکام
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
10,951
سوال (Question):
پانی کا کاروبار کرنا کیسا ؟ / پانی کی خرید و فروخت کے احکام
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
پانی کا کاروبار کرنا کیسا ؟ / پانی کی خرید و فروخت کے احکام
اسلام وعلیکم ورحمۃ ﷲ و برکاتہ ۔ امید ہے مجازِ گرامی بخیر و عافیت سے ہونگے ۔ ایک سوال یہ تھا کہ پانی کا کاروبار کرنا کیسا ؟۔ جواب عنایت فرمائیں ۔ سائل : مومن کامل حسین مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ . الحمدللہ جو پانی اپنی ملکیت میں ہو، اس کی خرید و فروخت جائز ہے ۔ چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے: “وہ پانی جس کو گھڑوں، مٹکوں یا برتنوں میں محفوظ کردیا گیا ہو اس کو بغیر اجازتِ مالک کوئی شخص صَرف(استعمال) میں نہیں لاسکتا اور اس پانی کو اس کا مالک بیع(بیچ)بھی کرسکتا ہے ۔“ (بہارِ شریعت،3/667) عام طور پر بوتل یا کولرس وغیرہ جس میں پانی دیا جاتا ہے وہ خود ایک پیمانہ ہوتا ہے اوروہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کتنا پانی ہے.. البتہ کبھی بوتل کتنے لیٹر کی ہے یہ معلوم نہیں ہوتا لیکن بوتل ہمارے سامنے ہی ہوتی ہے اور یہ پتا ہوتا ہے کہ اس بوتل میں ہم نے خریدا ہے تو یہاں بوتل خود ایک پیمانہ ہے اور ابہام یہاں موجود نہیں ہے لہٰذا اس طرح خرید و فروخت جائز ہے۔ بہارِ شریعت میں ہے: ”اگر یہ کہہ دیا کہ مہینے میں اتنی مشکیں پلاؤ اور مشک معلوم ہے تو جائز ہے۔“(بہارِ شریعت،2/698) کسی شخص کا اپنی ملکیت کے سرکاری نل، بورنگ، کنویں وغیرہ کے پانی کو بوتل یا جار وغیرہ میں بھر کر یا مشین کے ذریعہ فلٹر کرکے بیچنا جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ البتہ ایسا پانی جو کسی شخص نے برتن وغیرہ میں جمع نہ کیا ہو، بلکہ وہ قدرتی طور پر بہہ رہا ہو، جیسے دریا یا چشمہ کا بہتا ہوا پانی اس کا فروخت کرنا ممنوع ہے، کیونکہ اس صورت میں وہ پانی فروخت کرنے والے کی ملکیت میں نہیں ہے بلکہ اس میں تمام مسلمان شریک ہیں۔ عن أبي بکر بن عبداﷲ بن مریم عن المشیخۃ أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نہی عن بیع الماء إلا ما حمل منہ، وقال: وعلی ہذا مضت العادۃ في الأمصار ببیع الماء في الروایا والحطب والکلاء من غیر نکیر۔ (إعلاء السنن، باب بیع الماء والکلاء،) فإذا أخذہ وجعلہ في جرۃ، أو ما شبہہا من الأوعیۃ فقد أحرزہ، فصار أحق بہ، فیجوز بیعہ، فالتصرف فیہ … لا یجوز بیع الماء في بئرہ ونہرہ ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ : ۳/۱۲۱) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــہ : مفتی محمدرضا مـــرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9