صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1297 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

پرانی قبر کی جگہ نئی قبر بنانا کیسا ہے ؟ از مفتی صدام حسین فیضی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,420

سوال (Question):

پرانی قبر کی جگہ نئی قبر بنانا کیسا ہے ؟ از مفتی صدام حسین فیضی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

پرانی قبر کی جگہ نئی قبر بنانا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارےمیں كہ تقریباً سو سال پرانا قبرستان جس میں قبریں زمین کے برابر ہوگئیں ہیں نشانات مٹ چکے ہیں ۔ کیا اب ان قبروں کی جگہ جدید قبریں بنائی جاسکتی ہیں؟ بینوا توجروا سائل:محمد فاروق خان ضلع پونچھ جموں وكشمير انڈیا. الجواب اللہم ھدایۃ الحق والصواب اگرضرورت شدیدہ نہ ہو تو پرانی قبروں کو کھود کر ان کی جگہ نئی قبریں نہیں بنائی جاسکتی ہیں کہ اس سے مسلمان میت کو تکلیف ہوتی ہے ۔ اور بلاوجہ شرعی مسلمان کو تکلیف دینا حرام ہے ۔ چنانچہ بیشتر احادیث میں ہے کہ قبر پر چلنے اس پر بیٹھنے سے میت کو تکلیف ہوتی ہے جیسا کہ حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ تعالی عنہ سےمروی ہے فرماتے ہیں : حضور اقدس ﷺ نے مجھے ایک قبر پر بیٹھے دیکھا فرمایا: یاصاحب القبر انزل من علی القبر لاتوذی صاحب القبر ولایوذیک.” (مجمع الزوائد ومنبع الفوائد ، کتاب الجنائز ، رقم 4321) یعنی اے قبر والے قبر سے اترجا نہ تو قبر والے کو اذیت دے نہ وہ تجھے تو جب قبر پر بیٹھنے سے مردے کوتکلیف ہوتی ہے تو اسے کھودنے سے بدرجہ اولی تکلیف ہوگی اور بلاوجہ شرعی مسلمان کوتکلیف دینا حرام ہے فتاوی رضویہ مترجم ج:24 ص:426 میں ہے: “مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے اللہ تعالی نے فرمایا : “والذین یوذون المومنین والمومنٰت بغیر ما اکتسبوا فقد احتملوا بھتانا واثما مبینا(الاحزاب 33 : 58) ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بےکئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا (کنزالایمان) فتاوی رضویہ مترجم ج:9 ص:440 میں خزانۃ الروایۃ سے ہے : “اذا صار المیت ترابا فی القبر یکرہ دفن غیرہ فی قبرہ لان الحرمۃ باقیۃ” انتھی. یعنی اگر قبر میں میت گل کر مٹی بھی ہوجائے جب بھی اس کی قبر میں غیر کو دفن کرنا مکروہ ہے اس لئے کہ اس کی حرمت باقی ہے لہذا صورت مستفسرہ میں اگر ضرورت شدیدہ نہ ہو تو پرانی قبر کو کھودنا حرام ہے لیکن اگر ضرورت ہوتو کھودنا جائز ہے کہ الضرورات تبیح المحظورات یعنی ضرورت کے وقت منع کردہ چیزیں بھی جائز ہوجاتی ہیں فتاوی رضویہ مترجم ج:9 ص:439 میں ہے: “بوقت ضرورت قبر کھودنا جائز ہے جبکہ اس کے بغیر دوسری جگہ میسر نہ ہو” انتهي واللہ تعالی اعلم بالصواب۔ کتبہ : گدائے حضوررئيس ملت محمد عرف صدام حسين احمدقادري میرانی فیضی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh