صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #81 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

پرسنٹیج پر زکاة کی وصولی کا حکم / Percentage پر چندہ کرنا

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,942

سوال (Question):

پرسنٹیج پر زکاة کی وصولی کا حکم / Percentage پر چندہ کرنا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

پرسنٹیج پر زکاة کی وصولی کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان اسلام اس مسئلہ میں کہ کیا پرسینٹیز پر چندہ کرنا یا کروانا جائز ہے بالخصوص زکوة یا عشر کی وصولی میں .بینوا توجروا المستفتی محمد ابوبکر علیمی مصباحی فیضان حافظ ملت بدھیانی خلیل آباد سنت کبیر نگر یو پی 9838543823 الجواب: پرسنٹیج پر زکاة کی وصولی کا حکم یہ تو ظاہر ہے کہ موجودہ دور میں زکاة وصول کرنے والے سفراء ان “عاملین” میں شامل نہیں ہیں جو مستحقین زکاة کی ایک صنف ہیں اور جن کو بقدر کفایت مال زکاة سے لینا جائز ہے ۔ کیوں کہ یہ “عاملین” وہ ہوتے ہیں جن کو حاکم اسلام صدقات وزکاة وصول کرنے پر مامور کرے ۔ فتاوی عالم گیری میں ہے:”ومنہا العامل وہو من نصبہ الامام لاستیفاء الصدقات والعشور” (فتاوی ہندیہ ج١ ص١٨٨) صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “عامل وہ ہے جسے بادشاہِ اسلام نے زکاۃ اور عشر وصول کرنے کے لیے مقرر کیا، اسے کام کے لحاظ سے اتنا دیا جائے کہ اُس کو اور اُس کے مددگاروں کا متوسط طور پر کافی ہو ۔ مگر اتنا نہ دیا جائے کہ جو وصول کر لایا ہے اس کے نصف سے زیادہ ہوجائے”۔ (بہار شریعت حصہ۵ص٩٢۴) لیکن اہل سنت وجماعت کے وہ دینی ادارے جو علوم قرآن وحدیث اور دیگر علوم دینیہ کی تعلیم کے لیے قائم کیے گیے ہیں ان کے اخراجات پورے کرنےکے لیےموجودہ دور کے مفتیان اہل سنت نے بر بنائے حاجت وتعامل پرسنٹیج (کمیشن) پر چندہ کرنے اور کرانے کی اجازت دی ہے ۔ مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ کے زیر اہتمام منعقد چودہویں فقہی سیمینار کے فیصلہ میں ہے: “اور مدارس دینیہ کو اس طرح کام لینے(مدارس کے لیے کمیشن پر چندہ کرانے) کی حاجت شرعی بھی متحقق ہے،ساتھ ہی اس پر عوام وخواص کا تعامل بھی ہوچکا ہے اس لیے وقتِ عقد یہ جہالت مفسدِ عقد نہ رہی” (مجلس شرعی کے فیصلے ص ٣٠٨ مزیدا منی مابین الہلالین) لیکن چندہ کرنے والوں کو یہ جائز نہیں ہے کہ وہ زکاة کی رقم کرایہ خرچہ میں صرف کرڈالیں یا بطور خود حق المحنت میں رکھ لیں ۔ اسی فیصلے میں ہے: “محصل پر واجب ہے کہ وصول کردہ رقم سے کچھ بھی اپنے استعمال میں نہ لائے حتی کہ اپنے کرایہ میں بھی صرف نہ کرے، نہ اسے اپنے حق المحنت میں وضع کرے کہ یہ امانت میں خیانت اور مال مسلم میں تعدی ہوگی جس کے باعث وہ حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ومستحق عذاب نار ہوگا” (مجلس شرعی کے فیصلے ص ٣٠٩) بلکہ چندہ کرنے والے بلا تاخیر وہ رقم مدارس کے ذمہ داران تک پہونچائیں پھر وہ ذمہ داران اپنے پاس سے یا چندہ کی رقم کاحیلہ شرعی کرنے کے بعد اسی سے چندہ لانے والے کی اجرت(پرسنٹیج) ادا کرسکتے ہیں ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی ۔٧/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٠/اپریل ٢٠٢١ء

Alimi Darul Ifta Jamia Alima Jmada shahi

قرض پر زکوۃ کا حکم / زکوۃ کے اہم مسائل از مفتی نظام الدین

 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh