صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #358 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

پسینہ سے ناپاک کپڑا بھیگ جاے تو وہ کپڑا ناپاک ہوگا یا نہیں

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,308

سوال (Question):

پسینہ سے ناپاک کپڑا بھیگ جاے تو وہ کپڑا ناپاک ہوگا یا نہیں

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

پسینہ سے ناپاک کپڑا تر ہوجاے اور وہ تری بدن پر لگے تو ناپاک ہے

السلام علیکم و رحمت اللہ

کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی انسان کو قطرہ آے اور وہ شخص جس کپڑے پر قطرہ لگا ہےاس کپڑے کو پہنے رہے یہاں تک کہ اس کو اس کپڑے میں پسینہ آجائے تو کیا وہ شخص ناپاک ہوگا یا نہیں تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔

عین نوازش ہوگی۔

سائل: محمد رضا

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب۔

جس انسان کو قطرات آے اور بدن یا کپڑے کے کسی حصہ پر ایک درہم سے زائد لگے تو وہ حصہ ناپاک ہے اس کا دھلنا فرض ہے۔

کپڑے کے جس حصہ پر قطرات لگے وہ حصہ پسینہ سے بھیگ گیا اور پھر اس سے بدن تر ہو گیا تو ناپاک ہوگیا ورنہ نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے “اذا ﻧﺎﻡ اﻟﺮﺟﻞ ﻋﻠﻰ ﻓﺮاﺵ ﻓﺄﺻﺎﺑﻪ ﻣﻨﻲ ﻭﻳﺒﺲ ﻓﻌﺮﻕ اﻟﺮﺟﻞ ﻭاﺑﺘﻞ اﻟﻔﺮاﺵ ﻣﻦ ﻋﺮﻗﻪ ﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻈﻬﺮ ﺃﺛﺮ اﻟﺒﻠﻞ ﻓﻲ ﺑﺪﻧﻪ ﻻ ﻳﺘﻨﺠﺲ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ اﻟﻌﺮﻕ ﻛﺜﻴﺮا ﺣﺘﻰ اﺑﺘﻞ اﻟﻔﺮاﺵ ﺛﻢ ﺃﺻﺎﺏ ﺑﻠﻞ اﻟﻔﺮاﺵ ﺟﺴﺪﻩ ﻓﻈﻬﺮ ﺃﺛﺮﻩ ﻓﻲ ﺟﺴﺪﻩ ﻳﺘﻨﺠﺲ ﺑﺪﻧﻪ ﻛﺬا ﻓﻲ ﻓﺘﺎﻭﻯ ﻗﺎﺿﻲ ﺧﺎﻥ” (ج١،ص٤٧)۔

بہار شریعت میں ہے “نجس کپڑا پہن کر یا نجس بچھونے پر سویا اور پسینہ آیا اگر پسینہ سے وہ ناپاک جگہ بھیگ گئی پھر اُس سے بدن تر ہو گیا تو ناپاک ہو گیا ورنہ نہیں”(ح٢،ص٣٩٤)۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری

١٦جولائی٢٠١٩

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh