صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1710 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

پنج وقتہ اذان اور جمعہ کی اذان ثانی فنائے مسجد میں دینی چاہئے یا عین مسجد میں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,233

سوال (Question):

پنج وقتہ اذان اور جمعہ کی اذان ثانی فنائے مسجد میں دینی چاہئے یا عین مسجد میں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

پنج وقتہ اذان اور جمعہ کی اذان ثانی فنائے مسجد میں دینی چاہئے یا عین مسجد میں؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس بارے میں کہ پنج وقتہ اذان، اور جمعہ کی اذان ثانی فنائے مسجد میں دینی چاہئے یا عین مسجد میں بحوالہ جواب عطافرمادیں؟ سائل: عمرفاروق عطاری لاہور وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ: الجـــــوابــــــــــــ”بعون الملک الوھّاب جس طرح پنج وقتہ نماز کی اذان مسجد سے باہر( یعنی خارج مسجد میں دینے کاحکم ہے اسی طرح جمعہ کی اذان ثانی کا بھی یہی حکم ہے کہ عین مسجد میں نہ دی جائے بلکہ فنائے مسجد ہی میں دی جائے: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بھی جمعہ کی اذان ثانی مسجد سے باہر دروازے پر ہوتی تھی۔ (سنن ابی داؤد شریف میں روایت ہے) (عن السائب بن یزید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال کان یؤذن بین یدی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذاجلس علی المنبر یوم الجمعۃ علی باب المسجد وابی بکر وعمر۔سنن ابی داؤد سائب بن یزید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے فرمایا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تشریف رکھتے تو حضور کے سامنے مسجد کے دروازے پر اذان ہوتی اور ایسا ہی ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالٰی عنھما کے زمانے میں ہو تا تھا ۔ خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنہم سے بھی (اذان کا) مسجد کے باہر ہی ہونا مروی ہے: (فتاویٰ رضویہ جلد5) (فتاویٰ قاضی خان میں ہے) وینبغی أن یؤذن علی المئذنةأوخارج المسجدلایؤذن فی المسجد” یعنی اذان مینار پر یا مسجد سے باہر دینی چاہیے اور مسجد میں اذان نہ دی جائے: (فتاویٰ خانیہ مع الھندیہ،جلد1صفحہ78) (فتاویٰ رضویہ میں ہے) مسجد کے اندر اذان کا ہونا آئمہ نے منع فرمایا اور مکروہ لکھاہے اورخلاف سنت ہے،یہ نہ زمانۂ اقدس میں تھا,نہ زمانۂ خلفاء راشدین، نہ کسی صحابی کی خلافت میں، بہر حال جبکہ زمانہ رسالت و خلافائے راشدہ میں نہ تھی اور ہمارے آئمہ کی تصریح ہے کہ مسجد میں اذان نہ ہو مسجد میں اذان مکروہ ہے تو ہمیں سنت اختیار کرنی چاہیے بدعت سے بچناچاہیے ۔ (امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتےہیں، ایک باربھی ثابت نہیں، کہ حضور اقدس صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم نے مسجد کے اندر اذان دلوائ ہو👇 آپ فرماتےہیں، احیائے سنت علماء کا توخاص فرضِ منصبی ہے، اورجس سے ممکن ہو اس کے لئے حکم عام ہے، ہر شہر کے مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے شہر یا کم ازکم اپنی مساجد میں اذان اور جمعہ کی اذان ثانی مسجد کے باہر دینے کی اس سنت کو زندہ کریں، اور سوسو(100)شہیدوں کا ثواب لیں.. (فتاویٰ رضویہ جلد5 صفحہ405تا411 رضافاؤنڈیشن لاہور) (فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے) اورجمعہ کی اذان ثانی امام کے سامنے مسجد کے دروازے پر دینا یہ بدعت سیئہ نہیں، اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان کے زمانۂ اقدس میں خطبہ کی اذان مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی، اور ایسا کہیں منقول نہیں، کہ حضور اکرم صلی اللہُ تعالیٰ علیہ والہ و سلم یا خلفائے راشدین نے مسجد کے اندر اذان دلوائ ہو.. (فتاویٰ فقیہ ملت جلد1صفحہ241) (بہار شریعت میں ھندیہ کےحوالےسے ہے) اذان مینارا پر کہی جائے یا خارج مسجد اور مسجد میں اذان نہ کہے: (الفتاوی الھندیہ باب الثانی فی الاذان,جلد1صفحہ55) مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتےہیں، کہ فقہ کی کسی کتاب میں کوئی اذان اس سے مستثنیٰ نہیں، اذان جمعہ ثانی بھی اسی میں داخل ہے.. (بہار شریعت حصہ3صفحہ469 مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ ✍کتبــــــــــــــــــــــہ  :ابورضاقاری محمد عمران عطاری مدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh