صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #733 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

پیر و مرشد کے مزار کا طواف کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,481

سوال (Question):

پیر و مرشد کے مزار کا طواف کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

پیر و مرشد کے مزار کا طواف کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

پیر و مرشد کے مزار کا طواف کرنا، اورمزار کی چوکھٹ کو بوسہ دینا اور آنکھوں سے لگا نا اور مزار سے اُلٹے پاؤں پیچھے ہٹ کے ہاتھ باندھے ہوئے واپس آنا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مزار کا طواف کہ محض بہ نیت تعظیم کیا جائے ناجائز ہے کہ تعظیم بالطواف مخصوص بخانہ کعبہ ہے ۔ مزار کوبوسہ دینا نہ چاہئے ، علماء اس میں مختلف ہیں ۔ اور بہتر بچنا ، او ر اسی میں ادب زیادہ ہے آستانہ بوسی میں حرج نہیں، اور آنکھوں سے لگانا بھی جائز کہ اس سے شرع میں ممانعت نہ آئی ۔ اور جس چیز کو شرع نے منع نہ فرمایا منع نہیں ہوسکتی ۔ قال اﷲ تعالٰی اِنِ الْحُکْمُ اِلَّالِلہِ ؕ (اﷲ کا ارشاد ہے : حکم نہیں مگر اﷲ کا ) ہاتھ باندھے الٹے پاؤں واپس آنا ایك طرز ادب ہے۔، اور جس ادب سے شرع نے منع نہ فرمایا اس میں حرج نہیں، ہاں اگر اس میں اپنی یا دوسرے کی ایذاء کا اندیشہ ہو تو اس سے احتراز کیا جائے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم ماخوذ از فتاوی رضویہ شریف 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh