صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1825 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

پیسہ لیکر تقریر کرنا یا امامت کرنا یا مدرسہ میں پڑھانا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,239

سوال (Question):

پیسہ لیکر تقریر کرنا یا امامت کرنا یا مدرسہ میں پڑھانا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

پیسہ لیکر تقریر کرنا یا امامت کرنا یا مدرسہ میں پڑھانا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ حضرت سوال یہ ہے کہ اگر کوئی امام صاحب یا تراویح کی نماز پڑھانے والا یا دینی مدارس میں پڑھانے والا جو اجرت لیتا ہو یا ایسا مقرر جو پیسے کا ڈمانڈ کرتا ہو کہ اگر مقرر نہ کیا جائے توضرورت سے کم پیسہ ملتا ہے۔ ان کے بارے میں کیا حکم ہے۔ جبکہ اللہ تعالی کا قول ہے ولا تشتروا بآیاتی ثمنا قلیلا۔ سائل: انور علی سعدی کٹیہار بہار الجواب بعون الملک الوھاب امامت اور دینی مدارس میں پڑھانے اور تقریر کرنے کے لئے اجرت لینا اس زمانے میں جائز ہے۔ امامِ اہلسنّت مجدّدِ دین و ملّت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن تحریر فرماتے ہیں: ’’اصل حکم یہ ہے کہ وعظ پر اجرت لینی حرام ہے۔ درّمختار میں اسے یہود و نصاریٰ کی ضلالتوں میں سے گِنا مگر ’’کم مّن احکام یختلف باختلاف الزّمان، کما فی العٰلمگیریۃ‘‘ (بہت سے احکام زمانہ کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں جیسا کہ عالمگیریہ میں ہے۔) کلیہ غیرِِ مخصوصہ کہ طاعات پر اُجرت لینا ناجائز ہے ائمہ نے حالاتِ زمانہ دیکھ کر اس میں سے چند چیزیں بضرورت مستثنٰی کیں: امامت، اذان، تعلیمِ قرآنِ مجید، تعلیمِ فقہ، کہ اب مسلمانوں میں یہ اعمال بلانکیر معاوضہ کے ساتھ جاری ہیں، مجمع البحرین وغیرہ میں ان کا پانچواں وعظ گنا و بس۔ فقیہ ابواللیث سمرقندی فرماتے ہیں، میں چند چیزوں پر فتوٰی دیتا تھا، اب ان سے رجوع کیا، ازانجملہ میں فتوٰی دیتا تھا کہ عالم کو جائز نہیں کہ دیہات میں دورہ کرے اور وعظ کے عوض تحصیل کرے مگر اب اجازت دیتا ہوں، لہٰذا یہ ایسی بات نہیں جس پر نکیر لازم ہو۔‘‘ اھ (فتاویٰ رضویہ جدید, ج١٩, ص٥٣٨, کتاب الاجارہ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) ہاں تراویح پڑھانے کی اجرت لینا دینا دونوں ناجائز و گناہ ہے بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ طے نہ کرے تو بھی ناجائز ہے کہ المعروف کالمشروط اور اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لوں گا پھر پڑھائے اور لوگ خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں۔ صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں: “آج کل اکثر رواج ہوگیا ہے کہ حافظ کو اجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ ناجائز ہے ۔دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہیں، اجرت صرف یہی نہیں کہ پیشتر مقرر کر لیں کہ يہ ليں گے یہ دیں گے، بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے، اگرچہ اس سے طے نہ ہوا ہو یہ بھی ناجائز ہے کہالمعروف کالمشروطہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا یا نہیں لوں گا پھر پڑھے اور حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ الصریح يفوق الدلالۃ ” اھ (بہار شریعت, حصہ٤, ج١, ص٦٩٢, تراویح کا بیان, مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) لہذا صورت مسئولہ میں امام صاحب یا دینی مدارس میں پڑھانے والے یا پیسہ لیکر تقریر کرنے والوں پر شرعاً کوئی الزام نہیں کہ ان کا یہ فعل جائز ہے۔ ہاں تراویح پڑھانے کی اجرت لینے والا ضرور گناہ گار ہے لہذا اس پر لازم ہے کہ سچی توبہ کرے اور لوگوں کو چاہئے کہ تراویح کا نذرانہ طے کئے بغیر دل کھول کر خدمت کریں تاکہ طے کرنے کی نوبت ہی پیش نہ آئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ:گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh