صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1947 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

چار بیٹے چھ بیٹیوں اور ایک بیوی میں ترکہ کیسےتقسیم ہوگا؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,881

سوال (Question):

چار بیٹے چھ بیٹیوں اور ایک بیوی میں ترکہ کیسےتقسیم ہوگا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

چار بیٹے چھ بیٹیوں اور ایک بیوی میں ترکہ کیسےتقسیم ہوگا؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ زید کا انتقال ہوا اور اس نے چار بیٹے چھ بیٹیاں اور ایک بیوی چھوڑی دوسری بیوی کا انتقال ان کی حیات میں ہی ہوگیا تھا اب ان کے بیٹوں میں جائیداد کی تقسیم کے حوالے سے اختلاف ہوگیا ہے کچھ کہتے ہیں کل مال کے دوحصے کئے جائیں کیوں کہ ان کی دوبیویاں تھیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کل مال کے چار حصے کرکے ہر بیٹے کو برابر برابر دیدیا جائے اب آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کے حساب سے کتنے حصے لگیں گے اور کس کو کتنا ملے گا بتا دیجئے۔ سائل: آصف کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ما تقدم وانحصار ورثہ فی المذکورین وعدم موانع ارث کل ترکہ زید کے ایک سو بارہ (١١٢) حصے کریں گے پھر اس میں سے چودہ حصے زید کی اس بیوی کو دیں گے جو اس کے انتقال کے وقت باحیات تھی اور ہر بیٹے کو چودہ چودہ حصے اور ہر بیٹی کو سات سات حصے دیں گے زید کی جس بیوی کا انتقال اس کی حیات میں ہوگیا تھا اسے زید کے ترکہ سے کچھ نہ ملے گا۔ فرمان باری تعالی ہے:” یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ  اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ” اھ (سورۃ النساء آیت ١١) ترجمہ: “اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے ” (کنزالایمان) نیز ارشاد فرمایا: “فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ” اھ (سورۃ النساء آیت ١٢) یعنی اگر تمہاری اولاد ہوں تو تمہارے ترکہ میں سے تمہاری بیویوں کا آٹھواں حصہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
میت کے ورثہ میں زوجہ دوبیٹیاں، باپ اور دو بھائی تین بہنیں ہوں تو اس کی وراثت کس طرح تقسیم ہوگی؟
میت کے ورثہ میں دولڑکیاں اور چار لڑکے ہوں تو شرعا وراثت کس کو کتنی ملے گی؟

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh