صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #934 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

چالیس لوگوں میں ایک اللہ کا ولی ہوتا ہے اس قول کی کیا حقیقت ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,854

سوال (Question):

چالیس لوگوں میں ایک اللہ کا ولی ہوتا ہے اس قول کی کیا حقیقت ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

چالیس لوگوں میں ایک اللہ کا ولی ہوتا ہے اس قول کی کیا حقیقت ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیان عظام کہ اکثر لوگ اس مسئلہ کوبہت بیان کرتے ہیں کہ چالیس لوگوں میں ایک اللہ کا ولی ہوتا ہے ۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ سکتے ہیں کہ جہاں چالیس لوگ اکٹھا ہوں ان میں کوئی ایک جنتی ہوگا ۔ یہ بات کہاں تک درست ہے جو صحیح ہو مع حوالہ جواب سے سرفراز فرمائیں ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں لوگوں کا یہ بیان کرنا کہ چالیس لوگوں میں ایک اللہ کا ولی ہوتا ہے درست ہے جیسا کہ مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوے رقمطراز ہیں کہ اولیا اللہ کی دوقسم ہے تشریعی ولی۔ تکوینی ولی ۔تشریعی ولی یعنی اللہ سے قرب رکھنے والے اولیاء حضور کی امت میں بے شمار ہیں۔ تکوینی ولی وہ ہوتے ہیں جنھیں عالم میں تصرف کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ان کی جماعت مخصوص ہے جیسے قطب، غوث ابدال وغیرہ اور سب قیامت کے ڈر اور رنج سے ۔یا دنیا کے خوف و غم سے محفوظ ہیں (ماخوذ از مراۃ المناجیح ج ٨ص ٥٨٤) ایک دوسری جگہ مرقاۃ المصابیح ک حوالے سے فرماتے ہیں کہ جہاں چالیس لوگ جمع ہوں ان میں کا کوئی ولی ضرور ہوتا ہے جس کی دعا قبول ہوتی ہے خیال رہے کہ اس سے بھی مراد تشریعی ولی ہے اور مسلمان سے مراد متقی مسلمان ہیں ورنہ سنیماؤں وغیرہ میں ہزاروں فساق ہوتے ہیں ۔ (مرقاۃ المناجیح ج2ص 473 ) واللہ اعلم بالصواب کتبہ. شاہد رضا امجدی جامعی پکڑیا جوت گنڈاہی گونڈا

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh