صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1326 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

چھ ماہ سے کم کی مدت میں پیدا ہونے والے بچے کا نسب ثابت مانا جائےگا یا نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,600

سوال (Question):

چھ ماہ سے کم کی مدت میں پیدا ہونے والے بچے کا نسب ثابت مانا جائےگا یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

چھ ماہ سے کم کی مدت میں پیدا ہونے والے بچے کا نسب ثابت مانا جائےگا یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا نکاح صفر کی ۵/ تاریخ کو ہندہ سے ہوا اور اسی سال رجب المرجب کی ٢٨/ تاریخ میں ہندہ کو لڑکا پیدا ہوا بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہندہ کے بطن سے پیدا ہونے والا یہ لڑکا زید کا نہیں ہے اس لیے کہ یہ لڑکا نکاح کے وقت سے چھ ماہ مکمل ہونے سے پہلے پیدا ہوا ہے جب کہ زید دعویٰ کر رہا یہ لڑکا میرا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ کے بطن سے پیدا ہونے والے لڑکے کا نسب زید سے ثابت ہوگا یا نہیں ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔ المستفتی:محمد نوشاد علیمی اشرفی ناسک مہاراشٹرا . الجواب بعون الملک الوھاب حمل کی اقل مدت چھ ماہ ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : وَ وَصَّیۡنَا الۡاِنۡسَانَ بِوَالِدَیۡہِ اِحۡسٰنًا ؕ حَمَلَتۡہُ اُمُّہٗ کُرۡہًا وَّ وَضَعَتۡہُ کُرۡہًا ؕ وَ حَمۡلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ ثَلٰثُوۡنَ شَہۡرًا ؕ (الاحقاف :١٥) دوسری جگہ مدت رضاعت دو سال بیان کی گئی ہے، ارشاد ہے : وَٱلْوَٰلِدَٰتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَٰدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ ٱلرَّضَاعَةَ() نتیجۃ حمل کی اقل مدت چھ مہینے ہوگی. لہذا اس مدت سے کم میں اگر بچے کی پیدائش ہوئی تو وہ ثابت النسب نہیں ہوگا اگرچہ شوہر کہے کہ یہ میرا لڑکا ہے. ہدایہ میں ہے: وإذا تزوج الرجل امرأة ،فجاءت بولد لأقل من ستة أشهر منذ يوم تزوجها لم يثبت نسبه؛لأن العلوق سابق على النكاح ،فلا يكون منہ .وإن جاءت به لستة أشهر، فصاعدا يثبت نسبه، اعترف به الزوج أو سكت.(الھدایۃ: ٢/ ٢٨٠) فتاویٰ عالم گیری میں ہے: “وإذا تزوج الرجل امرأۃ فجاءت بالولد لأقل من ستۃ أشہر منذ تزوجہا لم یثبت نسبہ وان جاءت بہ لستۃ اشھر فصاعدا یثبت نسبہ منہ اعترف بہ الزوج او سکت فان جحد الولادۃ تثبت بشھادۃ امراۃ واحدۃ تشھد بالولادۃ کذا فی الھدایۃ” (فتاویٰ عالمگیری، الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب،١/ ٥٣٦) فتاویٰ شامی میں ہے: فلو جاء ت الموطوء ة بزناً بولد-لأقل من ستة أشھر من وقت النکاح لا یثبت النسب ولا یرث منہ الخ (رد المحتار، کتاب النکاح، فصل فی المحرمات، ۴/ ۱۴۲) واللہ تعای اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یکم رجب ١٤٤٣ / ٣ فروری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh