Fatwa #2724
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
ڈھول بجوانے والے اور اس میں شامل ہونے والے لوگوں پر کیا حکم ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,082
سوال (Question):
ڈھول بجوانے والے اور اس میں شامل ہونے والے لوگوں پر کیا حکم ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ڈھول بجوانے والے اور اس میں شامل ہونے والے لوگوں پر کیا حکم ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص جس کا نام محمد جاوید ولد فیض حسین ہے جو چھڑونگ کا رہنے والا ہے وہ شخص ہر سال اپنے گھر پرگھاس کٹای کے وقت ڈھول بجواتا ہے اور اس شخص نے دو تین مرتبہ مسجد شریف میں بہت سارے لوگوں کے سامنے توبہ بھی کی اور لوگوں کے سامنے یہ وعدہ بھی کیا کہ آج کے بعد ڈھول نہیں بجواؤں گا لیکن جب اسوج کا مہینہ آتا ہے پھر وہ اپنے وعدے کو بھول جاتا ہے اورخوب ڈھول بجواتا ہے حتی کہ اذان کے وقت بھی ڈھول بند نہیں کرواتا لہذا اس شخص اور گھاس کٹائی لیتری میں شامل لوگوں کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟ ضرور جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی:۔ سید محمد عارف امام وخطیب جامع مسجد چھڑنگ تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب:۔ ڈھول باجے بجانا ناجائز وحرام ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے”ومن الناس من يشترى لهو الحديث ليضل عن سبيل الله بغير علم ويتخذها هزوا آولئك لهم عذاب مهين”(سورہ لقمان:آیت:۶)ترجمہ:-اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے”(کنز الایمان ص ۷۴۰) لهو الحديث،سے متعلق تفسیر الجامع لأحكام القران للقرطبي میں ہے”الغناء والمزامیر”(ج ۱۴ ص ۵۱/المكتبة الشيعية) یعنی لھوالحدیث سے مراد ناچ گانا اور آلات موسیقی(ڈھول،باجا،سارنگی وغیرہ) ہیں- لفظ “لھو” کے متعلق حضور صدر الافاضل فخر الاماثل علامہ نعیم الملة والدین قدس سرہ العزیر تحریر فرماتے ہیں”لہو یعنی کھیل ہر اس باطل کو کہتے ہیں جو آدمی کو نیکی سے اور کام کی باتوں سے غفلت میں ڈالے کہانیاں افسانے اسی میں داخل ہیں”(تفسیر خزائن العرفان مع کنز الایمان ص ۷۴۰) مذکورہ آیت کریمہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے”اس آیت سے علماء کرام نے گانے بجانے کی حرمت پر استدلال کیا ہے”(ج ۷ ص ۴۷۵) حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں”ليكونن من امتى اقوام يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف”(صحیح بخاری: کتاب الاشربہ: باب ماجاء فیمن یستحل الخمر ویسمیه بغير اسمه:رقم الحدیث : ۵۵۹۰) یعنی ضرور میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہونے والے ہیں کہ حلال ٹھہرائیں گے عورتوں کی شرمگاہ یعنی زنا اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور باجوں کو- در مختار میں ہے”قلت:وفي البزازية:استماع صوت الملاهى كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام:استماع صوت الملاهى معصيةوالجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر:أي، بالنعمة”(درمختار مع رد المحتار ج۹ ص ۵۰۴/ دارعالم الكتب الرياض) البحر الرائق میں ہے”(قوله أو يغنى للناس) لأنه يجمع الناس على ارتكاب كبيرة كذا فى الهداية وظاهره ان الغناء كبيرة”(ج ۷ ص ۱۴۸/ دار الكتب العلمية،بيروت،لبنان) فتح القدیر میں ہے “ولذا عللہ في الكتاب بأنه يجمع الناس على ارتكاب كبيرة وفي النهاية أن الغناء في حقهن مطلقا حرام لرفع صوتهن وهو حرام”(ج ۷ ص ۳۸۱/دار الکتب العلمیة،بیروت،لبنان) فتاوی رضویہ میں ہے “مختصرا اسی طرح یہ گانے باجے کہ ان بلاد میں معمول ورائج ہیں بلاشبہ ممنوع وناجائز ہیں”(ج ۹ ص ۷۷ نصف اول) فتاوی امجدیہ میں ہے”ڈھول بجانا،عورتوں کا گانا،ناچ،باجا،یہ سب حرام ہیں”(ج۴ ص۷۵) مذکورہ دلائل سے ڈھول باجے کی حرمت روز روشن کی طرح واضح ہو گئی لہذا سوال میں مذکور شخص(محمد جاوید ولد فیض حسین) جس نے ڈھول بجوانے کے بعد توبہ کی اس کے بعد پھر اس فعل قبیح کا ارتکاب کیا اور جتنے لوگوں نے ایسی بری مجلس میں شرکت کی سب کے سب سخت فاسق وفاجر حرام کبیرہ کے مرتکب مستحق غضب جبار وعذاب نار ہیں ان پر لازم ہے کہ علانیہ توبہ صادقہ کریں اور جلد قبولیت توبہ کی امید پر اپنے مال میں سے کچھ صدقہ وخیرات بھی کریں جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: “اَلَمْ يَعْلَمُوٓا اَنَّ اللّـٰهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَاَنَّ اللّـٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْـمُ” ترجمہ کنزالایمان۔کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے خود اپنے دست قدرت میں لیتا ہے اور یہ کہ الله ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔( پارہ ۱۱، آیت:١٠۴، سورة التوبة) آئندہ ایسے برے کاموں سے باز آئیں ورنہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کا مکمل بائیکاٹ کریں نہ تو اس کے ساتھ کھائیں پئیں اور نہ ہی نشست و برخاست رکھیں۔ والله تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ:۔ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر ۲۷/ربیع الاول ١٤٤٤٥ھ مطابق ١٣/اکتوبر ٢٠٢٣ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9