کاروبار کے لیے پلاٹ خریدنے پر زکوٰۃ کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری
سوال (Question):
کاروبار کے لیے پلاٹ خریدنے پر زکوٰۃ کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کاروبار کے لیے پلاٹ خریدنے پر زکوٰۃ کا حکم از : مفتی محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی پھ السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے ایک پلاٹ خریدا تھا اسکو بیچ دیا اور اس پر سال نہیں گزرا اور بیچ دیا اور اسی پیسے سے نیا پلاٹ خرید لیا کیا حکم ہے۔ نیا پلاٹ پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟ قرآن حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں *المستفتی* غلام جیلانی نظامی سکونت مندسور مدھیہ پردیش *الجواب*: تجارت کی غرض سے خریدے گیے پلاٹ پر زکات ہے۔ فتاوی عالم گیری میں ہے: “الزکاۃ واجبۃ في عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت إذا بلغت قیمتہا نصاباً من الورق والذہب، کذا فی الہدایۃ۔”(الفتاویٰ الہندیۃ ج ۱ص۱۷۹) علامہ محقق علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: “أو في عرض تجارۃ قیمتہ نصاب من ذہب أو ورق۔ “(الدر المختار ج ۳ص۲۲۸) اس لیےصورتِ مسئولہ میں اگرچہ زید نے ایک سال میں ایک پلاٹ خریدا پھر سال گزرنے سے پہلےاس کو بیچ کر دوسرا خرید لیا ہو، جس دن زید کا سالِ زکاة مکمل ہوگا اس دن اس کی ملکیت میں جو بھی پلاٹ موجود ہو اس کی جو بھی قیمت (مارکیٹ ویلیو) ہو دیگر اموالِ زکات کی طرح اس پلاٹ کی قیمت کی بھی زکات ادا کردے۔ ۔واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ *کتبہ*:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔١۴/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٧/اپریل ٢٠٢١ء