صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2695 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کاش محشر میں جب ان کی آمد ہو اور بھیجیں سب ان کی شوکت پہ لاکھوں سلام ” کی تشریح

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,637

سوال (Question):

کاش محشر میں جب ان کی آمد ہو اور بھیجیں سب ان کی شوکت پہ لاکھوں سلام " کی تشریح

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کاش محشر میں جب ان کی آمد ہو اور بھیجیں سب ان کی شوکت پہ لاکھوں سلام ” کی تشریح

قیامت کے دن حضورﷺ کی آمد یقینی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اعلی حضرت علیہ الرحمہ اپنے شعر میں فرماتے ہیں “کاش محشر میں جب ان کی آمد ہو اور بھیجیں سب ان کی شوکت پہ لاکھوں سلام ” اور اعلی حضرت علیہ الرحمہ اپنے شعر میں لفظِ کاش استعمال ہے حالانکہ لفظ” کاش “وہاں استعمال کیا جاتا ہے جہاں شک و شبہہ کی گنجائش ہو اور قیامت کے دن حضور ﷺ کی آمد یقینی ہے اس میں شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے تو پھر اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے لفظ کاش استعمال کیوں کیا؟؟ سائل : سیر العابدین معتلم جامعہ اشرفیہ مبارک پور بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بتوفیق الملک الوھاب اللھم ہدایت الحق والصواب پہلے حل لغات ملاحظہ فرمائیں ” کاش :- برائے اظہارِ تمنا، محشر :- روز قیامت ، آمد :- تشریف آوری ، شوکت :- شان و شکوہ ، قدسی :- فرشتے ، ہاں :- شروع کرو ! پڑھو !!” جیسے مفہوم کا اشارہ تشریح ” “امام عشق ومحبت سرکار اعلی حضرت مجدد دین و ملت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اپنی دلی اور آخری خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اس دنیا میں جس طرح مجھے اپنے رؤف و رحیم آقا کی بارگاہ میں سلام پڑھنے اور لکھنے کی توفیق نصیب ہوئی ہے اسی طرح قیامت کے روز بھی آپ کا قرب نصیب ہو اور جب آپ کی محشر میں تشریف آوری ہو تو مجھے حکم ہو کہ ، اے احمد رضا ! اب تم وہ سلام پڑھو ! جس کا مطلع یہ ہے ، ” مصطفے جان رحمت پہ لاکھوں سلام -” ترمذی شریف میں ہے کہ، ” حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میدان محشر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ، “جب لوگ قبور سے نکلیں گے تو میں انکا اول ہوں گا – جب اللہ تعالٰی کے حضور جائیں گے تو میں ان کی قیادت کر رہا ہوں گا – جب وہ خاموش ہوں گے تو میں ان کی نمائندگی کروں گا – جب وہ نا امید ہوں گے تو میں شفاعت کروں گا جب وہ پریشان حال ہوں گے تو میں انھیں خوش کروں گا – کرم کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا – اولاد آدم میں سے میرا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بلند ہو گا -” یطوف علی الف خادم کانھم لولو مکنون – یعنی ، ” چمکدار موتیوں سے بڑھ کر خوبصورت ہزار خادم میرے ارد گرد ہوں گے “( الترمذی ) حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہر روز بارگاہ نبوی میں ستر ہزار صبح اور ستر ہزار شام فرشتے حاضر ہو کر اپنے پروں پر کو قبر انور کے ساتھ لگاکر زیارت و برکت حاصل کرتے ہوئے درود وسلام عرض کرتے ہیں حتی کہ آپ جب میدان محشر میں تشریف لائیں گے ۔ “خرج فی سبعین الفامن الملائکتہ یُوَقِّرونہ صلی اللہ علیہ وسلم “- ( التزکرہ للقرطبی ٢١٤ ) “تو ستر ہزار فرشتوں کے جھرمٹ میں ہو نگے -” انہی فرشتوں اور خدام کو سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ” خدمت کے قدسی ” کہا ہے – یعنی ، ” جب فرشتوں کے جھرمٹ میں میدان محشر میں میرے آقا کریم کی تشریف آوری ہو تو فرشتے مجھ سے کہیں ۔ ” اے احمد رضا ! اب جھوم جھوم کر اور وجد کرتے ہوئے پڑھئے ! ” مصطفے جان رحمت پہ لاکھوں سلام -” اور واقعۃ اعلی حضرت ہی نہیں ہر وہ شخص جس نے خلوص نیت سے اپنے آقا کے حضور کثرت سے درود وسلام پڑھا ہوگا اسے قیامت کے دن موقع ملے گا – کیونکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ ” اولی الناس بی یوم القیامۃ اکثرھم علی صلاۃ -” یعنی ، روز قیامت میرے قریب سب سے زیادہ وہ شخص ہو گا جو تم میں سے کثرت کے ساتھ مجھ پر درود وسلام عرض کرنے والا ہو گا -” ( ماخوذ، شرح سلام رضا ص،٥٦٣/٥٦٤ ) واللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم باالصواب ، کتبہ :مفتی منظورالقادری، خادم التدریس دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh