Fatwa #646
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کافر مرتے وقت اگر ایمان لے آئے تو کیا حکم شرع ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
8,305
سوال (Question):
کافر مرتے وقت اگر ایمان لے آئے تو کیا حکم شرع ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کافر مرتے وقت اگر ایمان لے آئے تو کیا حکم شرع ہے ؟
السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسٔلہ میں کہ کوئی کافر سادھو, مرتے وقت وصیت کرے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمداللہ کےرسول ہیں تو اس کے لیے کیا حکم ہے ایسے شخص کو ایمان پر خاتمہ ہوا یا کفرپر ۔ المستفتی : شفیع احمد نیپال وعلیکم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوہاب صورت مذکورہ میں جواب یہ ہےکہ مرتے وقت ایمان لانا معتبر نہیں اس لیے کہ اس وقت کافر کو بھی اسلام کے سچے ہونے کا یقین ہوجاتا ہے لیکن اُس وقت کا ایمان معتبر نہیں کیونکہ ایمان تو اللّٰہ تبارک و تعالٰی اور رسولﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر بـے دیکھے یقین کرنے کا نام ہے اور اب تو فرشتوں کو دیکھ کر کافر ایمان لاتا ہے اس لیے ایسے ایمان لانے سے مسلمان نہ ہوگا. چنانچہ, ارشاد خداوندی ہے فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ.فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَاؕ-سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖۚ-وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ (پارہ ۲۴ ، سورة المؤمن: آیت کریمہ ۸۴۔۸۵) ترجمہ کنزالایمان:- پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا بولے ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور جو اس کے شریک کرتے تھے ان سے منکر ہوئے تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا اللہ کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے ۔ نیز حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ فرماتےہیں کہ ہر شخص کی جتنی زندگی مقرّر ہے اُس میں نہ زیادتی ہو سکتی ہے نہ کمی, جب زندگی کا وقت پورا ہو جاتا ہے، اُس وقت حضرت عزرائیل علیہ السلام قبض روح کے لیے آتے ہیں اور اُس شخص کے دہنے بائیں جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے فرشتے دکھائی دیتے ہیں ، مسلمان کے آس پاس رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں اور کافر کے دہنے بائیں عذاب کے اور اُس وقت ہر شخص پر اسلام کی حقّانیت آفتاب سے زیادہ روشن ہو جاتی ہے، مگر اُس وقت کا ایمان معتبر نہیں ، اس لیے کہ حکم ایمان بالغیب کا ہے اور اب غیب نہ رہا، بلکہ یہ چیزیں مشاہد ہو گئیں۔ ( بہار شریعت حصہ اول, ص۹۸, عالم برزخ کا بیان ,مکتبۃ المدینہ،). والله تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ:- اسیر حضور تاج الشریعہ محمــــــــد نورجمال رضــوی دینـــاجپـــوری. ۱۴ صفر المظفر -۱۴۴۳ہجری
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9