صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1056 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کرتے یا شرٹ کے بٹن کو کھول کر نماز پڑھا تو کیا حکم ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,853

سوال (Question):

کرتے یا شرٹ کے بٹن کو کھول کر نماز پڑھا تو کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کرتے یا شرٹ کے بٹن کو کھول کر نماز پڑھا تو کیا حکم ہے ؟

سوال : زید نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ اس کے کرتے کا اوپر والا بٹن کھلا ہوا تھا تو اس میں کوئی شرعی قباحت ہے یا نہیں؟ مطلع فرمائیں. الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں کرتے کا بٹن کھلا رہنے کی چند صورتیں ہیں یا تو کرتے کے اوپر یا نیچے کوئی دوسرا کپڑا مثلا صدری شیروانی یا بنیان وغیرہ پہنے ہوئے تھا ایسی صورت میں اگر اوپر یا نیچے والے دوسرے کپڑے کی وجہ سے سینہ ڈھکا ہوا تھا تو کرتے کے بٹن کا کھلنا نماز میں کوئی ضرر نہیں پہنچاے گا ۔ اور اگر کرتے کے اوپر یا نیچے دوسرا کپڑا نہیں تھا جس سے سینہ ڈھکا رہے اس صورت میں یا تو صرف اوپر والا بٹن کھلا ہوا تھا یا اس کے ساتھ نیچے والا بھی . الحاصل اگر بٹن اس طرح کھلے ہوئے تھے (خواہ ایک ہی یا زیادہ) جس سے سینہ ظاہر ہے تو نماز قطعاً مکروہ تحریمی ہو گی. اور اگر صرف اوپر کا بٹن اس طرح کھلا ہوا ہے جس سے صرف گلے کے پاس کا خفیف حصہ نظر آرہا ہے تو کوئی حرج نہیں. یہ احکام فتاوی رضویہ جلد ثالث صفحہ 447 کی مندرجہ ذیل عبارت سے ماخوذ ہیں. ” اور کسی کپڑے کو ایسا خلاف عادت پہننا جسے مہذب آدمی مجمع یا بازار میں نہ کر سکے اور اگر کرے تو بے ادب حفیف الحرکات سمجھا جائے یہ بھی مکروہ ہے ۔ جیسے انگرکھا پہنا اور گھنڈی یا باہر کے بند نہ لگانا یا ایسا کرتا جس کے بٹن سینے پر ہیں پہننا اور بٹن اتنے لگانا کہ سینہ یا شانہ کھلا رہے جبکہ اوپر سے انگر کھا نہ پہنے ہو یہ بھی مکروہ ہے ۔ اور اگر اوپر سے انگر کھا ہے یا اتنے بٹن لگائے کہ سینہ یا شانہ ڈھک گئے اگرچہ اوپر کا بٹن نہ لگانے سے گلے کے پاس کا خفیف حصہ کھلا رہا تو حرج نہیں. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبــــــــــــــہ : مفتی محمد قدرت اللہ الرضوی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 373

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh