صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1449 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کسی مسلمان پر کفر کب پلٹتا ہے اور کب نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,751

سوال (Question):

کسی مسلمان پر کفر کب پلٹتا ہے اور کب نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کسی مسلمان پر کفر کب پلٹتا ہے اور کب نہیں؟

سوال:- کسی مسلمان پر کفر کب پلٹتا ہے اور کب نہیں؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب جب کوئی مسلمان کسی کلمہ گو کو کافر کہے اور وہ کافر نہ تھا آیا وہ قائل خود کافر ہوگا یا نہیں تو اس میں دو صورتیں ہیں اگر کہنے والا اسے مسلمان جانتا ہے اور بطور گالی اسے کافر کہا تو کفر کہنے والے پر نہ پلٹے گا اور اگر کہنے والا اسے کافر اعتقاد کرتا ہے تو کفر کہنے والے پر پلٹے گا کیونکہ مسلمان کو کافر جاننا دین اسلام کو کفر جاننا ہے اور دین اسلام کو کفر جاننا کفر ہے ۔ ہاں اگر اس میں کوئی ایسی بات پائی جاتی تھی جس کی بنا پر تکفیر ہوسکے اور اس نے اسے کافر کہا اور کافر جانا تو قائل کافر نہ ہوگا ۔ یہ اس صورت میں ہے کہ وہ وجہ جس کی بنا پر قائل نے کافر کہا ظنی ہو یعنی اس میں تاویل کی گنجائش ہو تو وہ مسلمان ہی کہلائے گا اس صورت میں قائل بھی کافر نہ ہوگا ۔ اور اگر اس میں قطعی طور پر کفر پایا جائے جس میں کسی طرح تاویل نہ ہوسکے تو وہ مسلمان ہی نہیں اور بیشک وہ کافر ہے اور اس کو کافر کہنا مسلمان کو کافر کہنا نہیں بلکہ کافر کو ہی کافر کہنا ہے بلکہ ایسے شخص کو مسلمان جاننا یا اس کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ در مختار میں ہے “وعزر الشاتم بياكافر وهل يكفر ان اعتقد المسلم كافرا ؟ نعم،والا لا،به يفتى “(ج ۶ ص ۱۱۶) اور رد المحتار میں ہے ۔” لأنه لما اعتقد المسلم كافرا فقد اعتقد دين الاسلام كفرا”(ج ۶ ص ۱۱۶) اور نھر الفائق میں ہے ” وفي “الذخيرة” المختار للفتوى أنه اذا اراد الشتم ولا يعتقده كفرا لا يكفر وان اعتقد كفرا فخاطبه بهذا بناء على اعتقاده أنه كافر يكفر لأنه لما اعتقد المسلم فقد اعتقد دين الاسلام كفر”(ج ۳ ص ۱۶۸ تا ۱۶۹) اور اعلحضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: “جو قول باطل دوسرے کو کہا جائے اسکا وبال قائل پر آتا ہے بعینہ وہی قول پلٹنا مطلق نہیں کسی کو ناحق گدھا کہنے سے قائل گدھا نہ ہو جائے گا”(فتاوی رضویہ ج ۹ ص ۴۷۲) اور حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں : ” ہاں اگر اس شخص میں کوئی ایسی بات پائی جاتی ہے جس کی بنا پر تکفیر ہوسکے اور اس نے اسے کافر کہا اور کافر جانا تو کافر نہ ہوگا-یہ اس صورت میں ہے کہ وہ وجہ جس کی بنا پر اس نے کافر کہا ظنی ہو یعنی تاویل ہوسکے تو وہ مسلمان ہی کہا جائے گا مگر جس نے اسے کافر کہا وہ بھی کافر نہ ہوا-اور اگر اس میں قطعی کفر پایا جاتا ہے جو کسی طرح تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا تو وہ مسلمان ہی نہیں اور بیشک وہ کافر ہے اور اسکو کافر کہنا مسلمان کو کافر کہنا نہیں بلکہ کافر کو کافر کہنا ہے بلکہ ایسے کو مسلمان جاننا یا اسکے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے”(ج ۲ ح ۹ ص ۴۰۸/مکتبة المدينه دعوت اسلامى) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحیح : محمد اختر حسین قادری خادم افتاو درس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh