Fatwa #1227
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کسی مسلمان کوکافر کہنے کا حکم / مسلمان کو کافر کہنا کیسا ہے
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
7,576
سوال (Question):
کسی مسلمان کوکافر کہنے کا حکم / مسلمان کو کافر کہنا کیسا ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کسی مسلمان کوکافر کہنے کا حکم / مسلمان کو کافر کہنا کیسا ہے
السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالٰی و برکاتہ. امید ہے کہ آپ بخیر و عافیت ہوں گے ؟ کیا فرماتے مفتیان کرام و علمائے شرع عظام مسئلۂ ذیل میں, کہ! زید جو سنی مسلمان ہے بکر یہ بھی سنی مسلمان ہے, ان دونوں کے مابین کچھ پرانی ذاتی رنجش بھی ہے ایک دن باتوں باتوں میں زید نے بکر کو کہہ دیا کہ” تم تو ہندو ہو”اس بات پر بکر کا یہ کہنا کہ تم نےمجھے کافر کہا کیوں کہ” ہندو “کافر ہوتاہے اور زید کا کہنا ہے کہ میں نے تمہیں ہندو اس وجہ سے کہا ہے کہ تم داڑھی تراشواتے ہو اسلامی وضع قطع میں نہیں رہتے ہو. اس مسئلہ کے مدنظر شرع شریف کا کیا حکم ہے تفصیل بیان فرماکر عنداللہ ماجور ہوں اور شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں… عبدالحفیظ قادری علیمی (ممبئی) الجواب بعون الملک الوھاب زید کے قول “میں نے تمہیں ہندو اس وجہ سے کہا ہے کہ تم داڑھی تراشواتے ہو اسلامی وضع قطع میں نہیں رہتے ہو”سے واضح ہے کہ اس نے بکر کو زجر و توبیخ یا سب وشتم کے طور پر ” ہندو” کہا ہے،وہ بکر کے ایمان کی نفی نہیں کررہا ہے، اس لئے زید پر حکم کفر عائد نہیں ہوگا، ہاں مسلمان کی دل آزاری کے سبب بکر سے معافی مانگے. فتاوی تاتار خانیہ میں ہے: “ولوقال لمسلم أجنبي: یا کافر، أو لأجنبیة: یاکافرة، ولم یقل المخاطب شیئاً، أو قال لامرأته: یا کافرة ولم تقل المرأة شیئاً … والمختار للفتوی في جنس هذه المسائل: أن القائل بمثل هذه المقالات إن کان أراد الشتم ولایعتقده کافراً لایکفر، وإن کان یعتقده کافراً فخاطبه بهذا بناءً علی اعتقاده أنه کافر یکفر”. (الفتاوی التاتارخانیة ۵۱۳/۵) درمختار مع رد المحتار میں ہے: “(وعزر) الشاتم (بيا كافر) وهل يكفر إن اعتقد المسلم كافراً؟ نعم، وإلا لا، به يفتى، شرح وهبانية، ولو أجابه: لبيك، كفر، خلاصة. وفي التتارخانية: قيل: لايعزر ما لم يقل: يا كافر بالله؛ لأنه كافر بالطاغوت، فيكون محتملاً. (قوله: بيا كافر) لم يقيد بكون المشتوم بذلك مسلماً لما يذكره بعد (قوله: إن اعتقد المسلم كافراً نعم) أي يكفر إن اعتقده كافراً لا بسبب مكفر. قال في النهر: وفي الذخيرة: المختار للفتوى أنه إن أراد الشتم ولايعتقده كفراً لايكفر، وإن اعتقده كفراً فخاطبه بهذا بناءً على اعتقاده أنه كافر يكفر؛ لأنه لما اعتقد المسلم كافراً فقد اعتقد دين الإسلام كفراً”. (٤/ ٦٩) فتاوی شارح بخاری میں ہے: کیا فرماتے ہیں علماے دین مسئلہ ذیل میں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو تصادم کی وجہ سے کافر کہے اور یہ بھی کہے کہ کان پکڑ کر مسجد سے باہر کر دیں گے۔از روۓ شرع کیا حکم ہے؟ بینوا و توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــ اگر اس نے اس مسلمان کو گالی گلوج کے طور پر کافر کہا ہے جیسا کہ سوال میں ظاہر ہے تو کہنے والا گنہگار ہوا۔ کافر نہ ہوا ،اور اگر اس نے اعتقاد کر کے کافر کہا ہے تو کہنے والا خود کافر ہے ۔ جیسا کہ در مختار می ہے “و عزر الشاتم بیا کافر و هل يكفر إن اعتقد المسلم كافرا نعم و إلا لا”( ٢/ ٣٧٩) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٢١ جمادی الآخرۃ ١٤٤٣/ ٢٥ جنوری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9