صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1304 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کسی نے طلاق کے پیپر پر اپنی طرف سے طلاق بڑھا دیا تو کیا حکم ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,268

سوال (Question):

کسی نے طلاق کے پیپر پر اپنی طرف سے طلاق بڑھا دیا تو کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کسی نے طلاق کے پیپر پر اپنی طرف سے طلاق بڑھا دیا تو کیا حکم ہے ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ نیاز احمد نے اپنی مدخولہ بیوی کے متعلق ہندی میں دو طلاق لکھوا کر ایک شخص کے سپرد کیا ۔ پھر اس کاغذ پر نیاز احمد کی اجازت کے بغیر ایک آدمی نے اپنی طبیعت سے ایک طلاق اور بڑھا کر تین طلاق کردیا تو اس صورت میں نیازاحمد کی بیوی پر کتنی طلاق پڑی ؟ نیاز احمد اپنی بیوی کو پھر رکھنا چاہتا ہے ۔ بینوا توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں نیاز احمد کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوئی۔ یعنی عدت کے اندر نیاز احمد اگر کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رات کر لی یا اس سے میاں بیوی جیسا برتاؤ کر لے تو وہ حسب سابق اس کی بیوی رہے گی نکاح کی حاجت نہیں۔ خدائے تعالیٰ کا ارشاد ہے : الطلاق مرتن فامساك بمعروف أو تسريح بإحسان.” (٢ع١٣)اور اگر عدت گزر گئی ہو تو عورت کی مرضی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔ حلالہ کی ضرورت نہیں۔ والله تعالى اعلم. كتبه: جلال الدين احمد الامجدي.

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh