صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2738 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کسی نے نماز میں تین سجدے کر لئے تو کیا حکم ہے ؟ از مفتی نظام الدین رضوی صاحب

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,672

سوال (Question):

کسی نے نماز میں تین سجدے کر لئے تو کیا حکم ہے ؟ از مفتی نظام الدین رضوی صاحب

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کسی نے نماز میں تین سجدے کر لئے تو کیا حکم ہے ؟

سوال :کسی نے دو سجدے کیے مگر اس کو وسوسہ تھا کہ شاید اس نے ایک ہی کیا ہے اور پھر اس نے اور ایک سجدہ کیا ایسے تین سجدےہو گئے اس کی نماز کا کیا حکم ہے ؟ الجواب :اسے چاہیے کہ آخر میں سجدہ سہو کرے تاکہ جو بھول ہوئی ہو سب کی تلافی ہو جائے اور بھول چوک کی وجہ سے جو کمی آئی ہے وہ کمی پوری ہو جائے۔ اصل میں شیطان انسان کو بھلاتا ہے تاکہ اس کی نماز مکمل نہ ہو، صحیح نہ، اور سجدے سے شیطان کو بڑی تکلیف ہوتی ہے تو حکم ہے سجدہ سہوہ کرلیا جائےتاکہ وہ شرارت نہ کرے۔ نماز کو مکمل کر لیجیے نماز صحیح ہو جائے گی۔ اور شیطان دل ہی دل میں خوب جلے گا ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور (بزم سوالات سے ماخوذ )

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh