صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1998 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کسی کافر کی موت پر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,241

سوال (Question):

کسی کافر کی موت پر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کسی کافر کی موت پر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا کیسا ہے؟

السلام علیکم. کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان شرع کہ چند آدمیوں نے ایک ہندو کی موت پر اسکی مغفرت کی دعا کی اور اس کے وسیلہ سے اپنی برادری کیلئے دعا کی کیا انکا ایمان اور نکاح باقی ہیں . المستفتی: محمد انوار نعیمی فتحپوری الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب کسی ہندو(غیر مسلم) کی موت پر اس کے لیے مغفرت کی دعا کرنا اور اس کے وسیلے سے دعا کرنا کفر خالص وتکذیب قرآن مجید ہے، جن لوگوں نے بھی ایسا قبیح فعل کیا ہے ان پر لازم ہے کہ توبہ وتجدید ایمان وتجدید نکاح کریں، اگر کسی پیر سنی صحیح العقیدہ سے بیعت ہوئے ہوں تو تجدید بیعت بھی کریں اور آئندہ ایسے برے کاموں سے بچنے کا پختہ عہد کریں- فتاوی رضویہ میں حلیتہ المحلی کے حوالہ سے ہے: “صرح الشيخ شهاب الدين القرافى المالكى بان الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبه تكذيب الله تعالى فيما أخبر به”( فتاوی رضویہ مترجم ،ج ۲۹ ص ۷۳۹/برکات رضا پوربندر گجرات) ردالمحتار میں ہے: “الدعاء به كفر لعدم جوازه عقلا ولا شرعا ولتكذيب النصوص القطعية بخلاف الدعاء للمؤمنين كما علمت فالحق ما فى الحلية”(ج ۱ ص ۳۵۱/ کتاب الصلوة،فصل واذا اراد الشروع فى الصلوة/دار احیاء التراث العربی بیروت) فتاوی رضویہ میں ہے: “کافر کے لیے دعاء مغفرت یا فاتحہ خوانی کفر خالص وتکذیب قرآن عظیم ہے”(ج ۲۱ مترجم ص ۲۲۸/برکات رضا پور بندر گجرات) بہار شریعت میں ہے: “جو کسی کافر کے لیے اس کے مرنے کے بعد مغفرت کی دعا کرے،یا کسی مردہ مرتد کو مرحوم یا مغفور کہے، یا کسی مردہ ہندو کو بیکنٹھ باشی کہے، وہ خود کافر ہے”(ج ۱ ح ۱ص ۱۸۵/ مكتبة المدينة دعوت اسلامی)واللہ تعالی أعلم بالصواب واليه المرجع والمآب کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ مدرس دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر الجواب صحیح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh