صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2658 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کسی کو سابقہ گناہوں پر برا کہنا کیسا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,768

سوال (Question):

کسی کو سابقہ گناہوں پر برا کہنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کسی کو سابقہ گناہوں پر برا کہنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسٔلہ کے بارےمیں کہ زید پہلے بہت گنہ گار تھا داڑھی کٹاتا، نماز ترک کرتا، تصویر بناتا، ویڈیو گرافی کراتا اور گانا سنتا تھا لیکن اس نے چند ماہ قبل ان سابقہ گناہوں سے توبہ کرلیا اور مذکورہ گناہ بالکل بھی نہیں کرتا ہے فرمان تاج الشریعہ پر عمل کرتا اس نے اس کا لوگوں میں اعلان بھی کر دیا ہے کہ میں توبہ کرچکا ہوں لیکن پھر بھی بہت سے لوگ اس کو سابقہ گناہوں کی بنا پر برا کہتے اور الزام لگاتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں شرع شریف کا کیا حکم ہے؟ المستفتی : md sadaruddin ismaily qadri razwi. faridabad haryana ballabgarh Rajeev colony sector 56 A بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الجوابـــــ

زید نے جب سابقہ گناہوں سے توبہ کر لیا تو اسے ان سابقہ گناہوں کی وجہ سے الزام لگانا عار دلانا برا کہنا سخت گناہ اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے زید کو برا کہنے والے لوگ اس حرکت سے باز رہیں ورنہ سخت گنہ گار جہنم کے حق دار ہوں گے. حدیث پاک میں ہے :” قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( التَّائِبُ مِنْ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ ) ” اھ رسول کریم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے کہ اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو. [سنن ابن ماجہ : حدیث : ٤٢٥٠] ایک حدیثِ پاک میں ہے :” قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” مَنْ عَيَّرَ أَخَاهُ بِذَنْبٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَعْمَلَهُ”اھ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کو کسی گناہ پر عار دلاتا ہے تو وہ عار دلانے والا مرنے سے پہلے خود بھی اس گناہ میں مبتلا ہوتا ہے۔ [جامع الترمذي :أَبْوَابُ صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر: ٢٥٠٥]واللہ تعالٰی اعلم کتبـــــــــہ :عبدہ المذنب عبدالقادر المصباحی خادم جامعہ امیر العلوم مینائیہ گونڈہ ٢٣ /صفر المظفر ١٤٤٥ھ مطابق ١٩/ ستمبر ٢٠٢٣ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh