Fatwa #1723
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کسی کے پاس پانچ لاکھ روپیے ہیں اور اس پر ایک لاکھ لون ہے تو کتنی زکاة دینی ہوگی؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,664
سوال (Question):
کسی کے پاس پانچ لاکھ روپیے ہیں اور اس پر ایک لاکھ لون ہے تو کتنی زکاة دینی ہوگی؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کسی کے پاس پانچ لاکھ روپیے ہیں اور اس پر ایک لاکھ لون ہے تو کتنی زکاة دینی ہوگی؟
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ و برکاتہ سوال:۔ کیا فرماتے ہیں علماۓ فحول و مفتیان ذوی العقول مسئلۂ ذیل میں : اگر کسی شخص کے پاس ۵ لاکھ (lakh) ہو اور اس نے ایک لاکھ لون loan لے لیا ، جس کو پانچ ہزار ماہانہ بطور قسط ایک لاکھ ہزار بھرنا ہے۔تو اسے زکوٰۃ کتنے روپیہ میں نکالنا پڑے گا ؟ الجوابـــــــــــــــــ اگر سالِ زکاة مکمل ہونے کے بعد لون لیا ہو تب تو اس لون کا کوئی اثر گزشتہ سال کی زکاة پر مرتب نہیں ہوگا، بلکہ سالِ زکاة کی تکمیل پر اس کے پاس جتنا مالِ زکاة ہو سب کی زکاة ادا کرے۔اس لون کی وجہ سے گزشتہ سال کی زکاة کچھ کم نہ ہوگی۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “ھذا اذا کان الدین فی ذمتہ قبل وجوب الزکاة، فلو لحقہ بعدہ لم تسقط الزکاة؛ لانھا ثبتت فی ذمتہ فلا یسقطھا ما لحق من الدین بعد ثبوتھا” (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الزکاة، ج٣ ص١٧٦) اور اگر سالِ زکاة مکمل ہونے سے پہلے ایک لاکھ لون لیا ہے تو اگر سالِ زکاة کی تکمیل پر اس کے یہ پانچ لاکھ اپنے اور ایک لاکھ لون والے موجود ہیں تو پورے پانچ لاکھ کی زکاة دینی ہوگی۔کیوں کہ بینک کے ایک لاکھ لون پر قرض ہونے کی وجہ سے اس پر زکاة نہیں ہے۔ اور اگر سالِ زکاة کی تکمیل پر مثلا چار لاکھ بچے تو اصلی ایک لاکھ لون میں سے جتنا بینک کا اُس پر اِس وقت واجب الادا ہے اتنا کم کرکے چار لاکھ کی زکاة دینی ہوگی۔ مان لیجیے مثال کے طور پر بیس رمضان المبارک کو اس کا سال زکاة مکمل ہوتا ہے اور اُس تاریخ کو اُس کے پاس چار لاکھ بچے ہیں۔اور اِس تاریخ سے پہلے اس نے اصل لون میں میں سے چالیس ہزار بینک کو ادا کردیا ہے۔تو ساٹھ ہزار جو اصل لون میں سے اس پر باقی ہے اتنی رقم کم کرکے تین لاکھ چالیس ہزار کی زکاة ادا کرنی ہوگی۔لیکن وہ انٹرسٹ جو لون پر اس کو بینک کو دینا ہے اس کو موجودہ رقم سے کم نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ وہ ایک ناجائز رقم ہے جس کی ادائیگی بینک کے قانون کے مطابق اگرچہ ضروری ہو، لیکن شرعاً وہ واجب الادا نہیں، اس لیے انٹرسٹ کی رقم کو دین مان کر وہ مقدار کم نہیں کی جائے گی۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١٣/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١۵/اپریل ٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9