صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #700 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کس صورت میں وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا جائز نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,665

سوال (Question):

کس صورت میں وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا جائز نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کس صورت میں وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا جائز نہیں؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ نماز کا وقت تنگ ہو گیا ہو یا پانی اتنا کم ہو کہ اگر کلی کریں گے اور ناک میں پانی ڈالیں گے تو فراٸضِ وضو کیلیے پانی پورا نہیں ہوگا تو ان دو صورتوں میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا وضو میں جاٸز نہیں ۔ چنانچہ الاشباہ والنظائر میں ہے: “لَوْضَاقَ الْوَقْتُ اَوِ الْمَاءُ عَنْ سُنَنِ الطَّھَارَةِ حَرُمَ فِعْلُھَا” یعنی اگر وقت یاپانی طہارت(یعنی وضو)کی سنتوں کیلیے تنگ ہو تو سنتوں (کلی , ناک میں پانی ڈالنا وغیرہ ) کی ادائیگی حرام ہے ـ (الاشباہ والنظائر صفحہ 117 ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh