Fatwa #700
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کس صورت میں وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا جائز نہیں؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh
تاریخ: September 18, 2025
0
4,667
سوال (Question):
کس صورت میں وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا جائز نہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کس صورت میں وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا جائز نہیں؟
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ نماز کا وقت تنگ ہو گیا ہو یا پانی اتنا کم ہو کہ اگر کلی کریں گے اور ناک میں پانی ڈالیں گے تو فراٸضِ وضو کیلیے پانی پورا نہیں ہوگا تو ان دو صورتوں میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا وضو میں جاٸز نہیں ۔ چنانچہ الاشباہ والنظائر میں ہے: “لَوْضَاقَ الْوَقْتُ اَوِ الْمَاءُ عَنْ سُنَنِ الطَّھَارَةِ حَرُمَ فِعْلُھَا” یعنی اگر وقت یاپانی طہارت(یعنی وضو)کی سنتوں کیلیے تنگ ہو تو سنتوں (کلی , ناک میں پانی ڈالنا وغیرہ ) کی ادائیگی حرام ہے ـ (الاشباہ والنظائر صفحہ 117 ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh