Fatwa #2342
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کس کس کے لئے سخت کلمات بولناجائز ہے؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,269
سوال (Question):
کس کس کے لئے سخت کلمات بولناجائز ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کس کس کے لئے سخت کلمات بولناجائز ہے؟
اپنی ماں سے زناکرنے والاکس کو قراردیا؟ عَنْ عَطَاء ٍ الْخُرَاسَانِیِّ، أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ سَلَامٍ قَالَ:الرِّبَا اثْنَانِ وَسَبْعُونَ حُوبًا، أَصْغَرُہَا حُوبًا کَمَنْ أَتَی أُمَّہُ فِی الْإِسْلِامِ، وَدِرْہَمٌ فِی الرِّبَا أَشَدُّ مِنْ بِضْعٍ وَثَلَاثِینَ زِینَۃً۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن سلام ر ضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا:سودکے تہترگناہ ہیں ، سب سے کم درجے کاگناہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص مسلمان ہوکراپنی ماں سے زناکرے ، سودکاایک درہم تیس سے زائد مرتبہ زناکے برابرہے۔ (شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی أبو بکر البیہقی (۶:۳۶۰)علم کابے ادب خنزیر سے بھی بدترہے
عَنْ عِکْرِمَۃَ، قَالَ:قَالَ عِیسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ: لَا تَطْرَحِ اللُّؤْلُؤَ إِلَی الْخِنْزِیرِ، فَإِنَّ الْخِنْزِیرَ لَا یَصْنَعُ بِاللُّؤْلُؤِ شَیْئًا، وَلَا تُعْطِ الْحِکْمَۃَ مَنْ لَا یُرِیدُہَا، فَإِنَّ الْحِکْمَۃَ خَیْرٌ مِنَ اللُّؤْلُؤِ، وَمَنْ لَا یُرِیدُہَا شَرٌّ مِنَ الْخِنْزِیرِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعکرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ حضرت سیدناعیسی علیہ السلام نے فرمایا: موتی خنزیرکی طرف مت پھینکو، اس لئے کہ خنزیرموتیوں کاکچھ نہیں کرے گااورحکمت ایسے شخص کو مت دوجواس حکمت کوچاہتاہی نہ ہو، بے شک حکمت موتیوںسے بہترہے اورجو حکمت کو نہیں چاہتاوہ خنزیرسے بھی براہے ۔ (المدخل إلی السنن الکبری:أحمد بن الحسین بن علی أبو بکر البیہقی (ا:۳۶۵)درود نہ پڑھنے والابخیل ہے
نا عُمَارَۃُ بْنُ غَزِیَّۃَ الْأَنْصَارِیُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ، یُحَدِّثُ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْبَخِیلَ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام حسین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: اصل بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میراذکرخیرہواوروہ مجھ پر درود شریف نہ پڑھے۔ (مسند ابن أبی شیبۃ:أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ بن محمد (۲:۲۹۲)بدمذہب استاد کو خبیث قراردیا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: کَانَ نَاسٌ مِنَ الْأَسْرَی یَوْمَ بَدْرٍ لَمْ یَکُنْ لَہُمْ فِدَاء ٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فِدَاء َہُمْ أَنْ یُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْکِتَابَۃَ قَالَ: فَجَاء َ غُلَامٌ یَوْمًا یَبْکِی إِلَی أَبِیہِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُکَ؟ قَالَ:ضَرَبَنِی مُعَلِّمِی قَالَ: الْخَبِیثُ، یَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ وَاللَّہِ لَا تَأْتِیہِ أَبَدًا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ غزوہ بدرکے قیدیوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کے پاس فدیہ دینے کے لئے کچھ موجو دنہ تھا، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان کافدیہ اس طرح مقررفرمایاکہ وہ انصاری بچوںکو کتاب سکھادیں ، ایک دن ایک بچہ اپنے والد ماجد رضی اللہ عنہ کے پاس روتاہواآیاتواس کے والدماجد رضی اللہ عنہ نے پوچھاکہ کیاہوا؟ توا س نے کہااس استاد نے ماراہے ۔ وہ کہنے لگے کہ یہ خبیث بدرکابدلہ لیناچاہتاہے ۔ آج کے بعد تم اس کے پاس نہ جانا۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۴:۹۲)کافرکوکمینہ قراردیا
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ غِرٌّ کَرِیمٌ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ خَبٌّ لَئِیمٌ۔ ترجمہ:حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایا: مومن شریف اوربھولابھالاہوتاہے جبکہ کافردھوکے باز اورکمینہ ہوتاہے ۔ (الجامع فی الحدیث لابن وہب:أبو محمد عبد اللہ بن وہب بن مسلم المصری القرشی :۳۵۸) گھٹیاحکمرانوں کوکمینہ قراردیا عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تَذْہَبُ الدُّنْیَا حَتَّی تَصِیرَ لِلُکَعٍ ، قَالَ إِسْمَاعِیلُ بْنُ عُمَرَ: حَتَّی تَصِیرَ لِلُکَعِ ابْنِ لُکَعٍ ، وقَالَ ابْنُ أَبِی بُکَیْرٍ: لِلَکِیعِ ابْنِ لَکِیعٍ وقَالَ أَسْوَدُ: یَعْنِی اللَّئِیمَ ابْنَ اللَّئِیمِ ۔ ترجمہ: ـحضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میںنے حضورتاجدارختم نبوتﷺکو یہ فرماتے ہوئے سناکہ دنیااس وقت تک فنانہیں ہوگی جب تک اس کااقتدارکمینہ بن کمینہ کونہ مل جائے۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۱۴:۷۷)حکم شرع کی مخالفت کرنے والے کو سخت سست کہنا
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّۃَ مَمْلُوکِینَ لَہُ عِنْدَ مَوْتِہِ، لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ غَیْرَہُمْ، فَدَعَا بِہِمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَجَزَّأَہُمْ أَثْلَاثًا، ثُمَّ أَقْرَعَ بَیْنَہُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَیْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَۃً، وَقَالَ لَہُ قَوْلًا شَدِیدًا۔ ترجمہ:حضرت سیدناعمران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھے کے چھے غلام آزادکردیئے ، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہیں تھا، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ان غلاموں کو بلایااوران کو تین حصوں میں تقسیم کرکے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اورجن دوکانام نکل آیاان کو آزادکردیا۔ اورباقی چارکوغلام ہی رہنے دیااورمرنے والے کے متعلق سخت الفاظ استعمال فرمائے ۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۳:۱۲۸۸)حضرت سیدناعمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ کاخلاف سنت عمل دیکھنے پرردعمل
عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ رُوَیْبَۃَ قَالَ: رَأَی بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ رَافِعًا یَدَیْہِ یَدْعُو عَلَی الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: فَسَبَّہُ وَقَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَمَا یَقُولُ بِأُصْبُعِہِ إِلَّا ہَکَذَا، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ عِنْدَ الْخَاصِرَۃِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ نے بشربن مروان کو جمعہ کے دن منبرپرہاتھ اٹھاکردعاکرتے ہوئے دیکھاتواس کو گالی دی اورکہاکہ میں نے توحضورتاجدارختم نبوت ﷺکو منبرمبارک پرجلوہ افروز دیکھاآپ ﷺاس سے زیادہ (دعا کیلئے )کچھ نہیں کرتے تھے، پھر انہوں نے اپنی شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا۔ (مسند الدارمی:أبو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن الدارمی، التمیمی السمرقندی (۲:۳۷۵)درست نماز نہ اداکرنے والے کے متعلق سخت الفاظ استعمال فرمائے
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:الصَّلَاۃُ مَثْنَی مَثْنَی، تَشَہَّدْ فِی کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَتَضَرَّعْ وَتَمَسْکَنْ وَتَخَشَّعْ ثُمَّ تَقَنَّعْ بِیَدَیْکَ، تَقُولُ، تَرْفَعُہُمَا إِلَی رَبِّکَ: یَا رَبِّ ، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذَلِکَ فَقَالَ فِیہِ قَوْلًا شَدِیدً۔ ترجمہ :حضرت سیدنافضل بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: نماز کی دودورکعتیں ہوتی ہیں ، ہردورکعت پر تشہدپڑھو!خشوع وخضوع اورعاجزی اورمسکینی ظاہرکرو، اپنے ہاتھوں کو اپنے رب تعالی کے سامنے پھیلائواوربلندکرو، اوران کے اندرونی حصے کو اپنے چہرے کے سامنے کرکے یارب !یارب کہہ کردعاکرو۔ اورجو شخص ایسانہ کرے اس کے متعلق حضورتاجدارختم نبوتﷺنے بڑی سخت بات ارشادفرمائی ۔ (مختصر قیام اللیل:أبو عبد اللہ محمد بن نصر بن الحجاج المَرْوَزِی :۱۲۷)غیراللہ کی قسم کھانے والے کے متعلق سخت کلام فرمایا
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَنْ حَلَفَ بِغَیْرِ اللہِ فَقَالَ فِیہِ قَوْلًا شَدِیدًا۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہمافرماتے ہیں : اللہ تعالی کے علاوہ کسی اورکی قسم کھانے والے کے متعلق حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے سخت کلام فرمایا۔ (مسند الإمام أحمد بن حنبل:أبو عبد اللہ أحمد بن محمد بن حنبل بن ہلال بن أسد الشیبانی (۹:۲۴۹) کسی مسلمان کو قتل کرنے والے کے متعلق سخت الفاظ استعمال فرمائے حَدَّثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ:أَبُو النَّضْرِ اللَّیْثِیُّ قَالَ بَہْزٌ، وَکَانَ مِنْ رَہْطِہِ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیَّۃً قَالَ:فَأَغَارَتْ عَلَی قَوْمٍ قَالَ:فَشَذَّ مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ قَالَ:فَأَتْبَعَہُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِیَّۃِ شَاہِرًا سَیْفَہُ قَالَ:فَقَالَ الشَّاذُّ مِنَ الْقَوْمِ: إِنِّی مُسْلِمٌ قَالَ:فَلَمْ یَنْظُرْ فِیمَا قَالَ فَضَرَبَہُ فَقَتَلَہُ قَالَ:فَنَمَی الْحَدِیثُ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:فَقَالَ فِیہِ قَوْلًا شَدِیدًا، فَبَلَغَ الْقَاتِلَ قَالَ:فَبَیْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْطُبُ إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ:یَا رَسُولَ اللہِ، وَاللہِ مَا قَالَ الَّذِی قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ قَالَ:فَأَعْرَضَ عَنْہُ ، وَعَمَّنْ قِبَلَہُ مِنَ النَّاسِ، وَأَخَذَ فِی خُطْبَتِہِ، ثُمَّ قَالَ أَیْضًا:یَا رَسُولَ اللہِ، مَا قَالَ الَّذِی قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْہُ وَعَمَّنْ قِبَلَہُ مِنَ النَّاسِ وَأَخَذَ فِی خُطْبَتِہِ، ثُمَّ لَمْ یَصْبِرْ فَقَالَ الثَّالِثَۃَ:یَا رَسُولَ اللہِ، وَاللہِ مَا قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ:فَأَقْبَلَ عَلَیْہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، تُعْرَفُ الْمَسَاء َۃُ فِی وَجْہِہِ، قَالَ لَہُ: إِنَّ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ أَبَی عَلَی لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۔ ترجمہ:حضرت سیدناعقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث شریف بیان کی کہ ایک مرتبہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے لشکرکاایک دستہ روانہ فرمایا، اس نے ایک قوم پرحملہ کیااوراس قوم سے ایک آدمی اپنی قوم سے نکلاتوا س دستہ کاایک آدمی تلوارلہراتاہوااس کی طرف لپکا، اس شخص نے کہاکہ میں مسلمان ہوں مگراس شخص نے اس کی بات پرکوئی توجہ نہیں دی اورتلوارکاوارکرکے اس کو قتل کردیا، اس واقعہ کی خبرحضورتاجدارختم نبوتﷺتک پہنچی توآپ ﷺنے اس کے متعلق سخت الفاظ استعمال فرمائے ۔ جس کی اطلاع قاتل تک بھی پہنچی ، حضرت سیدناعقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت حضورتاجدارختم نبوتﷺخطبہ ارشادفرمارہے تھے توقاتل نے کہاکہ یارسول اللہ ﷺ!اللہ تعالی کی قسم !اس نے یہ کلمہ صرف اپنی جان بچانے کیلئے پڑھاتھا، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے اس سے اوراس کی جانب بیٹھے ہوئے تمام لوگوں سے منہ موڑلیااوربرابرخطبہ جاری رکھا، تین بارایساہی ہوا۔ بالآخرحضورتاجدارختم نبوتﷺاس کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ ﷺکے چہرہ مبارک پرغم وغصہ کے آثارتھے اورفرمایاکہ اللہ تعالی نے کسی مسلمان کو قتل کرنے والے کے حق میں میری بات ماننے سے بھی انکارکردیاہے۔ (مسند الرویانی:أبو بکر محمد بن ہارون الرُّویانی (۲:۴۷۳)کیاگالی دینے پر بھی اللہ تعالی رحم فرماتاہے؟
قال أحمد بن حنبل:إنی لأرجو أن یرحم اللہ الأمین بإنکارہ علی إسماعیل بن علیۃ، فإنہ أدخل علیہ، فقال:یابن الفاعلۃ أنت الذی تقول کلام اللہ مخلوق؟۔ ترجمہ :حضرت سیدناامام احمدبن حنبل رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ مجھے اللہ تعالی کی بارگاہ سے امیدہے کہ وہ ضروربالضرورخلیفہ امین پررحم فرمائے گاکیونکہ انہوںنے اسماعیل بن علیہ کاردکرتے ہوئے کہاتھاکہ اے رنڈی کے بچے! توبھی یہی کہتاہے کہ قرآن کریم اللہ تعالی کی مخلوق ہے ؟۔ (تاریخ الخلفاء :عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۱:۲۳۲) زیادبن عبیداللہ الحارثی المتوفی : ۱۵۰ھ) کاعمل وَقَالَ الواقدی:طلب زیاد بن عبید اللہ ابن أَبِی ذِئْبٍ لِیَسْتَعْمِلَہُ فَأَبَی عَلَیْہِ، فَحَلَفَ زِیَادٌ لَیُسْتَعْمَلَنَّ، فَحَلَفَ ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ لا یُعْمَلُ فأمر زیاد بسجنہ وقال:یا ابن الْفَاعِلَۃِ، فَقَالَ ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ:وَاللَّہِ مَا مِنْ ہَیْبَتِکَ تَرَکْتُ الرَّدَّ عَلَیْکَ، وَلَکِنْ لِلَّہِ تَعَالَی. ترجمہ :امام واقدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ زیادبن عبیداللہ نے ابی ذئب کو گورنربنانے کاارادہ کیاتوانہوںنے انکارکردیا، زیادنے بھی قسم کھائی کہ میں اسے ضرورگورنربنائوں گااورانہوںنے بھی قسم کھائی کہ میں کبھی بھی گورنرنہیں بنوں گاتوزیادبن عبیداللہ نے ان کو قیدمیں ڈال دیااورساتھ ان کو گالی دی کہ اے گندی عورت کے بیٹے !اب ابی ذئب نے فرمایا: اللہ تعالی کی قسم !میں تیری ہیبت کی وجہ سے تجھے گالی دینے سے نہیں رک رہابلکہ صرف اللہ تعالی کی وجہ سے تجھے گالی نہیں دے رہاوگرنہ میں تجھ سے گالی دے کربدلہ لے لیتا۔ (تاریخ الإسلام :شمس الدین أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن عثمان بن قَایْماز الذہبی (۳:۸۶۷)بڑوں کو ادب سکھانے والے کو جواب
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیقٍ الْعُقَیْلِیِّ، قَالَ:قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ:الصَّلَاۃَ، فَسَکَتَ، ثُمَّ قَالَ:الصَّلَاۃَ، فَسَکَتَ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاۃَ، فَسَکَت:ثُمَّ قَالَ:لَا أُمَّ لَکَ أَتُعَلِّمُنَا بِالصَّلَاۃِ، وَکُنَّا نَجْمَعُ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک بارنماز مغرب موخرفرمائی توایک شخص کہنے لگانماز کاوقت ہوگیا ،نماز کاوقت ہوگیاتوحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماجلال میںفرماتے ہیں:تیری ماں مرجائے کیاتوہم کو نماز سکھائے گا؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ میں ایک نماز کوموخرکرکے اس کے آخری وقت میں اوردوسری کوجلد ی کرکے اس کے پہلے وقت میں ادافرمالیتے تھے اوروہ بھی کبھی کبھی ۔ (صحیح مسلم : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (ا:۴۹۲)حضرت سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ کاایک ذمی کوسخت سست کہنا
ثنا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وِقَاء ُ بْنُ إِیَاسَ، عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ سُلَیْمَانَ وَنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَلُولَاء َ أَوْ نَہَاوَنْدَ، فَلَمَّا نَزَلَ الْقَوْمُ خَرَجُوا یَتَعَلَّفُونَ فَإِذَا رَجُلٌ قَدْ جَاء َ وَوِقْرُ دَابَّتِہِ فَاکِہَۃٌ یُمْشَی عَنْہَا، فَجَعَلَ یَسْتَطْعِمُہُ مَنْ یَعْرِفُہُ فَیُطْعِمُہُمْ حَتَّی مَرَّ عَلَی سَلْمَانَ، فَسَبَّہُ سَلْمَانُ فَسَبَّ سَلْمَانَ فَقَالُوا لَہُ: أَتَدْرِی مَنْ ہَذَا الَّذِی سَبَبْتَہُ؟ قَالَ: لَا قِیلَ: ہُوَ سَلْمَانُ فَرَجَعَ إِلَیْہِ یَعْتَذِرُ إِلَیْہِ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوظبیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں حضرت سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، یاتوجنگ جلولاتھی یانہاوند، فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سے ایک شخص ( ذمی ) گزراجس نے پھل توڑے ہوئے تھے ، اس نے ساتھیوں کے درمیان ان کو تقسیم کرناشروع کردیا، حضرت سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے توآپ رضی اللہ عنہ نے اس کو سب وشتم کیااس نے بھی حضرت سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ کونہ پہچاننے کی وجہ سے برابھلاکہا، اس کو بتایاگیاکہ یہ حضرت سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں تووہ حضرت سیدناسلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضرہوااورمعافی مانگی ۔ الی آخرہ۔ (الأموال لابن زنجویہ:أبو أحمد حمید بن مخلد بن قتیبۃ المعروف بابن زنجویہ (ا:۳۷۹)سورتوں کے نام غلط رکھنے والے کے لئے سخت کلام کرنا
وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِیمِیُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْہِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ یُوسُفَ، یَقُولُ:وَہُوَ یَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ:أَلِّفُوا الْقُرْآنَ کَمَا أَلَّفَہُ جِبْرِیلُ، السُّورَۃُ الَّتِی یُذْکَرُ فِیہَا الْبَقَرَۃُ وَالسُّورَۃُ الَّتِی یُذْکَرُ فِیہَا النِّسَاء ُ، وَالسُّورَۃُ الَّتِی یُذْکَرُ فِیہَا آلُ عِمْرَانَ قَالَ:فَلَقِیتُ إِبْرَاہِیمَ فَأَخْبَرْتُہُ بِقَوْلِہِ، فَسَبَّہُ وَقَالَ: حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یَزِیدَ، أَنَّہُ کَانَ مَعَ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَأَتَی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ، فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِی، فَاسْتَعْرَضَہَا، فَرَمَاہَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِی بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ، یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ، قَالَ فَقُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّاسَ یَرْمُونَہَا مِنْ فَوْقِہَا فَقَالَ:ہَذَا، وَالَّذِی لَا إِلَہَ غَیْرُہُ، مَقَامُ الَّذِی أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُورَۃُ الْبَقَرَۃِ۔ ترجمہ:ابن مسہر نے مجھے اعمش سے خبر دی (انھوں نے)کہا :میں نے حجا ج بن یو سف سے سنا وہ منبر پر خطبہ دیتے ہو ئے کہہ رہا تھا : قرآن کریم کی وہی ترتیب رکھو جو حضرت سیدناجبریل علیہ السلام نے رکھی (نیز سورہ بقرہ کہنے کے بجا ئے کہو)وہ سورت جس میں بقر ہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ سورت جس میں نساء کا تذکرہ ہے وہ سورت جس میں آل عمران کا تذکرہ ہے ۔ (امام اعمش رضی اللہ عنہ نے)کہا اس کے بعد میں حضرت سیدناامام ابر اہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے ملا ،میں نے انھیں اس کی بات سنائی تو انھوں نے اس پر سب وشتم کیا اور کہا :مجھ سے عبد الرحمٰن بن یزید نے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ۔وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے وادی کے اندر کھڑے ہو ئے اس (جمرہ )کو چوڑا ئی کے رخ اپنے سامنے رکھا اس کے بعد وادی کے اندر سے اس کو سات کنکریاں ماریں وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے :میں نے عرض کی :ابو عبد الرحمٰن! کچھ لو گ اس کے اوپر (کی طرف )سے اسے کنکریاں مارتے ہیں انھوں نے کہا :اس ذات کی قسم!جس کے سوا کو ئی معبود نہیں !یہی اس ہستی کے کھڑے ہو نے کی جگہ ہے جس پر سورہ بقرہ نازل ہو ئی ۔ (مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۲:۹۴۲)زناکرنے والے کوسخت سست کہنا
عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ:کَانَتْ جَارِیَۃٌ لَابْنِ عُمَرَ وَکَانَ لَہُ غُلَامٌ یَدْخُلُ عَلَیْہَا فَسَبَّہُ، فَرَآہُ ابْنُ عُمَرَ یَوْمًا فَقَالَ:أَحَامِلٌ أَنْتِ؟ قَالَتْ:نَعَمْ قَالَ:مِمَّنْ؟ قَالَتْ:مِنْ فُلَانٍ قَالَ:الَّذِی سَبَبْتُہُ؟ قَالَتْ:نَعَمْ. فَسَأَلَہُ ابْنُ عُمَرَ فَجَحَدَ، وَکَانَتْ لَہُ إِصْبَعٌ زَایِدَۃٌ، فَقَالَ لَہُ ابْنُ عُمَرَ:أَرَأَیْتَ إِنْ جَاء َتْ بِہِ ذَا زَایِدَۃٍ قَالَ:ہُوَ إِذًا مِنِّی قَالَ: فَوَلَدَتْ غُلَامًا لَہُ إِصْبَعٌ زَایِدَۃٌ قَالَ:فَضَرَبَہُمَا ابْنُ عُمَرَ الْحَدَّ، وَزَوَّجَہَا إِیَّاہُ، وَأَعْتَقَ الْغُلَامَ الَّذِی وَلَدَتْ۔ ترجمہ:حضرت سیدنانافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی تھی اوران کاایک غلام بھی تھا، جواس کے پاس جاتاتھااوراس کے ساتھ زناکرتاتھا، ایک دن حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے لونڈی کو دیکھاتوپوچھاکہ کیاتوحاملہ ہے ؟ تواس نے کہاکہ جی ہاں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھاکس سے ؟ اس نے کہاکہ فلاں سے ۔ پوچھاوہی جس کو میں نے منہ بولابیٹابنایاہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں۔ حضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھاتواس نے انکارکیا، اس کی ایک انگلی زائد تھی ، حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے اس کو فرمایا: اگراس نے ایک زائد انگلی والابچہ جناتوپھر؟ تواس نے کہاکہ تب وہ میراہی ہوگا۔ پھراس نے ایک زائد انگلی والابچہ جنا۔ حضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ نے دونوں کوحد لگائی اوراس لونڈی کی اس غلام سے شادی کردی اوراس لڑکے کو آزاد کردیاجو پیداہواتھا۔ (المصنف:أبو بکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الیمانی الصنعانی (۷:۲۰۴)غلط مسئلہ بتانے والے کو جواب
عن عطاء الخراسانی قال:قلت لابن المسیب:أن عکرمۃ یزعم أن رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تزوج میمونۃ وہومحرم؟ فقال:کَذبَ مَخْبَثَانٌ!اذہب إلیہ فسُبَّہُ، سأحدثک:قَدِمَ رسول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم َوہو مُحْرِمٌ، فلما حَل تزوجہا. ترجمہ :حضرت سیدناعطاالخراسانی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدناسعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کی : کہ عکرمہ کہتے ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے حضرت سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہاسے حالت احرام میں شادی فرمائی تھی ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:خبیث لوگ جھوٹ کہتے ہیں پہلے تم جائواوراس کوجاکرسب وشتم کروپھرمیں تم کو حدیث شریف بیان کروں گا، پھرآپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضورتاجدارختم نبوتﷺتشریف لائے اس حال میں کہ آپ ﷺاحرام میں تھے پھرآپﷺنے احرام کھولااورشادی فرمائی ۔ (صحیح أبی داود :أبو عبد الرحمن محمد ناصر الدین، الأشقودری الألبانی (۶:۱۱۰) نماز کے بعد کھڑے ہوکردعاکرنے والے کوسخت سست کہنا عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّہُ رَأَی رَجُلًا یَدْعُو قَائِمًا بَعْدَمَا انْصَرَفَ فَسَبَّہُ أَوْ شَتَمَہُ۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوعبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کونماز کے بعد کھڑے ہوکردعاکرتے ہوئے دیکھاتواس کو سب وشتم کیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:أبو بکر بن أبی شیبۃ، عبد اللہ بن محمد بن إبراہیم بن عثمان بن خواستی العبسی (۲:۲۳۱) شیطان قراردیناایک شخص کو شیطان کاسینگ قراردیا
عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ:سَمِعْتُ یَزِیدَ الرَّقَاشِیَّ یَقُولُ:بَیْنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ مَعَ أَصْحَابِہِ فَأَشْرَفَ عَلَیْہِمْ رَجُلٌ فَأَثْنَوْا عَلَیْہِ خَیْرًافَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:إِنَّ فِی وَجْہِہِ سَفْعَۃَ شَیْطَانٍ فَجَاء َ فَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:أَحَدَّثْتَ نَفْسَکَ آنِفًا أَنَّہُ لَیْسَ فِی الْقَوْمِ رَجُلٌ أَفْضَلَ مِنْکَ؟ قَالَ:نَعَمْ ،ثُمَّ وَلَّی فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَفِیکُمْ رَجُلٌ یَضْرِبُ عُنُقَہُ؟ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ:أَنَا فَقَامَ فَرَجَعَ فَقَالَ: انْتَہَیْتُ إِلَیْہِ فَوَجَدْتُہُ قَدْ خَطَّ عَلَیْہِ خَطًّا , وَہُوَ یُصَلِّی فِیہِ ,فَلَمْ تُشَایِعْنِی نَفْسِی عَلَی قَتْلِہِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَیُّکُمْ لَہُ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَنَا ,فَقَامَ إِلَیْہِ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ وَجَدْتُہُ سَاجِدًا فَلَمْ تُشَایِعْنِی نَفْسِی عَلَی قَتْلِہِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَیُّکُمْ لَہُ؟ فَقَالَ عَلِیٌّ: أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ! فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَنْتَ لَہُ إِنْ أَدْرَکْتَہُ وَلَا أُرَاکَ أَنْ تُدْرِکَہُ فَقَامَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ:وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ وَجَدْتُہُ لَجِئْتُکَ بِرَأْسِہِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:ہَذَا أَوَّلُ قَرْنٍ مِنَ الشَّیْطَانِ طَلَعَ فِی أُمَّتِی أَوْ أَوَّلُ قَرْنٍ طَلَعَ مِنْ أُمَّتِی أَمَا إِنَّکُمْ لَوْ قَتَلْتُمُوہُ مَا اخْتَلَفَ مِنْکُمْ رَجُلَانِ إِنَّ بَنِی إِسْرَائِیلَ اخْتَلَفُوا عَلَی إِحْدَی أَوِ اثْنَتَیْنِ وَسَبْعِینَ فِرْقَۃً وَإِنَّکُمْ سَتَخْتَلِفُونَ مِثْلَہُمْ أَوْ أَکْثَرَ لَیْسَ مِنْہَا صَوَابٌ إِلَّا وَاحِدَۃٌ قِیلَ:یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَا ہَذِہِ الْوَاحِدَۃُ؟ قَالَ:الْجَمَاعَۃُ وَآخِرُہَا فِی النَّارِ۔ ترجمہ :حضرت سیدنایزیدرقاشی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورتاجدارختم نبوت ﷺاپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ جلوہ گرتھے ، ان کے سامنے ایک مردآیاتوانہوںنے بھلائی کے ساتھ اس کی تعریف کی ، حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایاکہ اس کے چہرہے میں توشیطان کی سیاہی ہے ، وہ آیااوراس نے سلام کیا۔ حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے ایسے فرمایاکہ تم نے ابھی ابھی اپنے دل میں یہ بات سوچی ہے کہ قوم میں کوئی بھی آدمی تجھ سے افضل نہیں ہے؟ تواس نے کہاکہ ہاں ۔ پھروہ واپس چلاگیا، حضورتاجدارختم نبوت ﷺنے فرمایاکہ کیاتم میں سے کوئی مردہے جو اس کی گردن اتاردے ؟ حضرت سیدناابوبکرالصدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ۔ پھروہ اسکی طرف گئے ، پھرواپس آگئے ۔ اورعرض کی : میں اس تک پہنچاتواس نے ایک لکیرکھینچی اوراس میں نماز پڑھنے لگا، مجھ میں اس کوقتل کرنے کی ہمت نہیں ہوئی ، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: کیاکوئی اوراسے قتل کرے گا؟ توحضرت سیدناعمررضی اللہ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!میں اسے قتل کروںگا۔ پھرآپ رضی اللہ عنہ اس کی طرف گئے اورلوٹ آئے اورعرض کی : یارسول اللہ ﷺ!میں نے اسے سجدہ کی حالت میں پایااورمجھ میں اس کو قتل کرنے کی ہمت نہیں ہوئی ۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: تم میں سے کون اس کو قتل کرے گا؟ حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ!میں اسے قتل کروں گا۔ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: ہاں تم اس کوقتل کردوگے اگروہ تم کو ملااورمیراخیال نہیں کہ تم اس کو پکڑلوگے ۔ پھروہ اٹھے اوروہ بھی لوٹ آئے اورعرض کی : یارسول اللہﷺ!اس ذات کی قسم !جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اگرمیں اسے پالیتاتومیں آپ ﷺکے پاس اس کاسرلیکرآتا، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: یہ شیطان کاپہلاسینگ ہے جومیری امت میں طلوع ہوا، یافرمایاکہ یہ پہلاسینگ ہے جو میری امت سے طلوع ہوا، اگرتم اس کو قتل کردیتے توتم میں سے دوآدمیوں کابھی اختلاف نہ ہوتا۔ بنی اسرائیل میں اختلاف ہواتواکہتریابہترفرقوں میں بٹ گئے اورتم بھی عنقریب انہی جیسااختلاف کروگے یاان سے بھی زیادہ ۔ایک کے علاوہ ان میں کوئی بھی راہ راست پرنہ ہوگا، عرض کی گئی: یارسول اللہ ﷺ!وہ ایک کونساہوگا؟ توآپﷺنے فرمایا: جماعت اوراس کاآخری شخص دوزخ میں جائے گا۔ (المصنف:أبو بکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الحمیری الیمانی الصنعانی (۱۰:۱۵۵)اکیلے مسافرکوشیطان قراردیا
عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ:أَخْبَرَنِی مَنْ، سَمِعَ الْحَسَنَ، یَقُولُ:رَأَی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فِی سَفَرٍ، فَقَالَ:شَیْطَانٌ ثُمَّ رَأَی رَجُلَیْنِ، فَقَالَ:شَیْطَانَانِ ،ثُمَّ رَأَی ثَلَاثَۃً، فَصَمَتَ،وَقَالَ:سَفَرٌ۔ ترجمہ :حضرت سیدنامعمررضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ مجھے اس شخص نے بتایاکہ جس نے حضرت سیدناامام حسن بصری رضی اللہ عنہ کوفرماتے ہوئے سناکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ایک شخص کو سفرمیں دیکھاتوفرمایاکہ یہ ایک شیطان ہے ۔ پھردوآدمیوں کو دیکھاتوفرمایاکہ دوشیطان ہیں۔ پھرتین آدمیوں کو سفرکرتے ہوئے دیکھاتوخاموش رہے اورفرمایاکہ سفرہے ۔ (الجامع:معمر بن أبی عمرو راشد الأزدی مولاہم، أبو عروۃ البصری، نزیل الیمن (۰ٍ۱:۴۳۱)کبوتربازکوشیطان قراردیا
عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ:رَأَی النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلًا یَتْبَعُ طَیْرًا، فَقَالَ:شَیْطَانٌ یَتْبَعُ شَیْطَانً۔ ترجمہ :حضرت سیدناابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ایک آدمی کودیکھاکہ وہ کبوترکے پیچھے دوڑرہاتھااورنظربھی اسکی طرف اٹھائی ہوئی تھی ، حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایاکہ شیطان کے پیچھے شیطان دوڑرہاہے ۔ (المعجم الأوسط:سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۵:۲۴۲)حکم شرع کی خلاف ورزی کرنے والاشیطان
حَدَّثَنَا حَفْصٌ السَّرَّاجُ، قَالَ:سَمِعْتُ شَہْرًا یَقُولُ:حَدَّثَتْنِی أَسْمَاء ُ بِنْتُ یَزِیدَ، أَنَّہَا کَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَالرِّجَالُ وَالنِّسَاء ُ قُعُودٌ عِنْدَہُ، فَقَالَ:لَعَلَّ رَجُلاً یَقُولُ مَا یَفْعَلُ بِأَہْلِہِ، وَلَعَلَّ امْرَأَۃً تُخْبِرُ بِمَا فَعَلَتْ مَعَ زَوْجِہَا، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ. فَقُلْتُ: إِی وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ، إِنَّہُنَّ لَیَقُلْنَ، وَإِنَّہُمْ لَیَفْعَلُونَ، قَالَ:فَلاَ تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا مِثْل ذَلِکَ مِثْلُ شَّیْطَانِ لَقِیَ شَیْطَانَۃً فِی طَرِیقٍ، فَغَشِیَہَا وَالنَّاسُ یَنْظُرُونَ. ترجمہ:حضرت سیدتنااسماء رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت اقدس میں حاضرتھیں ، حضورتاجدارختم نبوتﷺکی خدمت اقدس میں بہت سے مرداورعورتیں جمع تھے ، آپ ﷺنے فرمایاکہ ہوسکتاہے کہ ایک زمانے میںمردیہ بتانے لگے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کیاکرتاہے اورعورت یہ بتانے لگے کہ وہ اپنے شوہرکے ساتھ کیاکرتی ہے ۔ لوگ اس پرخاموش رہے ،تومیںنے عرض کیا:یارسول اللہ ﷺ!اللہ تعالی کی قسم!یہ باتیں توعورتیں کہتی ہیں اورمردبھی بیان کرتے ہیں ۔حضورتاجدارختم نبوتﷺنے فرمایا: لیکن تم ایسانہ کیاکرو!کیونکہ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شیطان کسی شیطانہ سے راستے میں ملے اورلوگوںکے سامنے ہی اس سے بدکاری کرنے لگے ۔ (غایۃ المقصد فی زوائد المسند:أبو الحسن نور الدین علی بن أبی بکر بن سلیمان الہیثمی (۲:۲۴۹)نماز کی بے ادبی کرنے والے کوشیطان قراردیا
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ، عَنْ أَبِیہِ، أَنَّہُ کَانَ یُصَلِّی إِلَی سَارِیَۃٍ، فَذَہَبَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی أُمَیَّۃَ یَمُرُّ بَیْنَ یَدَیْہِ، فَمَنَعَہُ، فَذَہَبَ لِیَعُودَ، فَضَرَبَہُ ضَرْبَۃً فِی صَدْرِہِ، وَکَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی أُمَیَّۃَ، فَذَکَرَ ذَلِکَ لِمَرْوَانَ، فَلَقِیَہُ مَرْوَانُ فَقَالَ:مَا حَمَلَکَ عَلَی أَنْ ضَرَبْتَ ابْنَ أَخِیکَ، فَقَالَ:إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ إِلَی شَیْء ٍ یَسْتُرُہُ فَذَہَبَ أَحَدٌ یَمُرُّ بَیْنَ یَدَیْہِ فَلْیَمْنَعْہُ، فَإِنْ أَبَی فَلْیُقَاتِلْہُ، فَإِنَّمَا ہُوَ شَیْطَانٌ، فَإِنَّمَا ضَرَبْتَ الشَّیْطَانَ ۔ ترجمہ :حضرت سیدناعبدالرحمن بن سعید رضی اللہ عنہ اپنے والدماجدحضرت سیدناابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں وہ ایک ستون کی طرف رخ کرکے نماز اداکررہے تھے کہ بنوامیہ سے تعلق رکھنے والاایک شخص ان کے سامنے سے گزرنے لگاتوانہوںنے اس کو روکا، وہ شخص دوبارہ گزرنے لگاتوانہوںنے اس کے سینے پرہاتھ مارا، وہ شخص بنوامیہ سے تعلق رکھتاتھا، اس نے اس بات کاتذکرہ مدینہ منورہ کے گورنرمروان سے کیا، مروان کی ملاقات حضرت سیدناابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تواس نے دریافت کیاکہ آپ نے اپنے بھتیجے کو کیوں ماراتھا؟ توحضرت سیدناابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ حضورتاجدارختم نبوتﷺنے یہ بات ارشادفرمائی تھی کہ جب کوئی شخص کسی چیز کوسترہ بناکرنماز اداکررہاہوتوپھرکوئی شخص اس کے آگے گزرنے کی کوشش کرے تووہ اسے روکے ، اگروہ شخص نہیں رکتاتواس کے ساتھ جھگڑاکرے کیونکہ وہ شخص شیطان ہوگا، تومیں نے شیطان کو ماراہے ۔ (صحیح ابن خزیمۃ:أبو بکر محمد بن إسحاق بن خزیمۃالنیسابوری (۲:۱۵)زانی کوخبیث اورشیطان کہناکیسا؟
حضرت مفتی عبدالمنان اعظمی حنفی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ زناکارکوخبیث یاشیطان کہناکوئی جرم نہیں ہے ، زناضرورخباثت کاکام ہے اورپروردگارکی بڑی سرکشی ہے اوریہ دونوں لفظ عرف عام میں انہیں معنوں میں بولے جاتے ہیں ۔ (فتاوی بحرم العلوم از مفتی عبدالمنان اعظمی ( ۴: ۱۵۹)
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9