Fatwa #1547
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کلمہ، درود یا آیات قرآنیہ کو اس طرح لکھنا کہ جاندار کی تصویر بن جائے جائز نہیں
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,729
سوال (Question):
کلمہ، درود یا آیات قرآنیہ کو اس طرح لکھنا کہ جاندار کی تصویر بن جائے جائز نہیں
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کلمہ، درود یا آیات قرآنیہ کو اس طرح لکھنا کہ جاندار کی تصویر بن جائے جائز نہیں
ایک شیر کی تصویر بنی ہوتی ہے اور اسی میں کلمہ وغیرہ لکھا ہوتا ہے تو کیا اس تصویر کو گھر میں رکھنا جائز ہے اور کیا شیر کی شکل میں کلمہ وغیرہ لکھنا درست ہے؟ حضرت مہربانی ہوگی جواب عنایت فرماکر قلب کو مسرور کریں اور ثواب کے مستحق ہوں۔ المستفتی محمد عیاض نظامی ۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں شیر کی شکل میں کلمہ درود اور آیات قرآنیہ وغیرہ لکھنا جاندار کی صورت گری کی وجہ سے حرام ہے مزید برآں شی معظم کا استخفاف بھی ہے۔ حدیث شریف میں ہے : ” وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي، فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً، وَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً “. اھ ( صحيح البخاري ، كِتَابٌ : اللِّبَاسُ ، بَابُ نَقْضِ الصُّوَرِ. رقم الحديث: 5953 ) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ( اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ) اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو میری مخلوق کی طرح پیدا کرنے چلا ہے اگر اسے یہی گھمنڈ ہے تو اسے چاہیئے کہ ایک دانہ پیدا کرے، ایک ذرہ پیدا کرے۔ دوسری حدیث میں ہے: ” قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُصَوِّرُونَ هَذِهِ الصُّوَرَ “. اھ ( صحيح البخاري ، كِتَابٌ : الْأَدَبُ ، بَابُ مَا يَجُوزُ مِنَ الْغَضَبِ وَالشِّدَّةِ لِأَمْرِ اللَّهِ، وَقَالَ اللَّهُ : جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ. رقم الحدیث: 6109 ) یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن ان لوگوں پر سب سے زیادہ عذاب ہو گا، جو یہ صورتیں بناتے ہیں۔“ علامہ شامی رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں: ” قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا، انتهى. وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ ( رد المحتار علی الدر المختار ، جلد 2 صفحہ 416 ، كتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا ، مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض ) کتاب مجلس شرعی کے فیصلے 395 پر ہے: ” قرآنی آیات اسم جلالت اسم رسالت یا متفرق کلمات قرآنی یا غیر قرآنی کو اس طرح بنانا کہ کسی جاندار کی تصویر بن جائے یہ جاندار کی صورت گری کی وجہ سے نہ حرام و نا جائز ہے مزید برآں شی معظم کا استخفاف بھی ہے ” اھ ۔ اور جاندار کی تصویر عزت سے گھر میں رکھنا بھی حرام ہے جس گھر میں جاندار کی تصویر ہو اس میں فرشتے نہیں آتے۔ حدیث شریف میں ہے : ” ان الملائکۃ لاتدخل بیتا فیہ صورۃ “ ۔(الصحیح البخاری ، کتاب البدء الخلق ، باب اذا قال احدکم اٰمین الخ ، جلد 1 ، صفحہ 179 ، مطبوعہ کراچی ) یعنی : جس گھر میں تصویر ہو ، اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے ۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے : ”ولا یجوز ان یعلق فی موضع شیئا فیہ صورۃ ذات روح “ ( الفتاویٰ الھندیہ ، کتاب الکراھیۃ ، الباب العشرون فی الزینۃ واتخاذ الخادم للخدمة ، جلد 5 ، صفحہ 439 ، مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت لبنان ) یعنی کسی بھی جگہ ایسی چیز لٹکانا ، جائز نہیں ہے ، جس میں جاندار کی تصویر ہو ۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن تحریر فرماتے ہیں :”حضور سرور عالم صلی للہ تعالی علیہ وسلم نے ذی روح کی تصویر بنانا ،بنوانا، اعزازاً اپنے پاس رکھنا سب حرام فرمایا ہے اوراس پر سخت سخت وعیدیں ارشاد کیں اور ان کے دور کرنے ، مٹانے کاحکم دیا؛ احادیث اس بارے میں حدِ تواترپر ہیں۔“( فتاویٰ رضویہ ، جلد 21 ، صفحہ 426 ، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور ) بحر العلوم مفتی عبد المنان رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: “کسی بھی ذی روح کی تصویر رکھنا حرام ہے ۔ ” ( فتاویٰ بحر العلوم ، جلد 5 ، صفحہ 507 ، مطبوعہ شبیر برادرز ، لاھور ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9