صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1202 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کم سے کم کتنے کلومیٹر کا سفر کرے تو نماز قصر کرنا پڑے گا؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,661

سوال (Question):

کم سے کم کتنے کلومیٹر کا سفر کرے تو نماز قصر کرنا پڑے گا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کم سے کم کتنے کلومیٹر کا سفر کرے تو نماز قصر کرنا پڑے گا؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ کسی شخص کا تین دن یا اس سے زیادہ دوری کے ارادے سے نکلنا سفر شرعی ہے جیسا کہ بخاری شریف جلد اول صفحہ 147 میں ہے ” عن ابن عمر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا تسافر المراءۃ ثلثۃ ایام الا مع ذی محرم ” اور مسلم شریف صفحہ 146 میں بھی ہے یعنی عورت تین دن کا سفر بغیر محرم نہ کرے. اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ 138 میں ہے : الاحکام التی تتغیر بالسفر ھی قصر الصلاۃ واباحۃ الفطر (الی آخر) وحرمۃ الخروج علی الحرۃ بغیر محرم کذا فی العتابیہ ” یعنی قصرصلوۃ اور آزاد عورت کا بغیر محرم نکلنے کی حرمت کی علت سفر شرعی ہے . جو حدیث پاک سے تین دن کی مسافت کا نام ہے ۔ لہذا تین ہی دن کی دوری کے ارادے سے نکلنا شرعاً سفر ہے. یہی احناف کی دلیل ہے اور اس سے متوسط چال اور عادۃ جتنی دیر لوگ لمبی مسافت کے لیے چلتے ہیں وہی معتبر ہے جیساکہ فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ 138 پر ہے” المعتبر السیر الوسط ” ایسا ہی بہار شریعت جلد چہارم صفحہ 43 اور ہدایہ اولین صفحہ 145 وغیرہ میں ہے اور کوس کا بھی اعتبار نہیں ہے کہ کوس کہیں بڑے اور کہیں چھوٹے ہوتے ہیں۔ بلکہ تین منزلوں کا اعتبار ہے جس کی مقدار خشکی میں میل کے حساب سے ساڑھے 57 میل ہے ۔ بہار شریعت جلد چہارم صفحہ 44 بحوالہ فتاوی رضویہ. اور اب اس سائنسی ایجادات کے دور میں ٹرینوں اور جہازوں سے ایک ہی دن میں بہ آسانی کئی منزلوں کی مسافت کو طے کرنا ممکن ہے اور منزلیں بھی اب ختم ہو گئیں. لہذا امام اہل سنت نے اس کی میلوں میں تعین فرمایا جیسا کہ اپنی کتاب جد الممتار جلد اول صفحہ 362 میں ارشاد فرماتے ہیں ” المشهور المعتاد في بلادنا ان كل مرحلۃ ١٢ کوس وقد جربت مرارا كثيرۃ بمواضيع شهيرۃ الرائج فی بلادنا خمسۃ اثمان ٥/٨ – ١ کوس المعتبر ها هنا فاذا ضربت الاکواس فی ٨ وقسم الحاصل على ٥ كانت اميالا فاذن اميالا مرحلۃ واحدۃ ١٩/٥-٩ واميال مسيرۃ ثلاثه ايام ٥٧ ٣/٥ اعنی ٦/٧٥ یعنی ہمارے بلاد میں معتاد و معہود یہ ہے کہ ہر منزل بار کوس کی ہوتی ہے میں نے بار بار بکثرت مشہور جگہوں میں آزمایا ہے کہ اس وقت ہمارے بلاد میں جو میل رائج ہے ٥/٨کوس ہے جب کوسوں کو آتھ میں ضرب دیں اور حاصل ضرب کو پانچ پر تقسیم کریں تو حاصل قسمت میل ہو گا. اب ایک منزل ١٩/١/٥ کی ہوئی اور تین کی مسافت ساڑھے ستاون میل یعنی ٥٧-٦ میل اور موجودہ اعشاریہ پیمانہ سے ایک میل برابر ایک کلو میٹر اور 600 میٹر ہوتی ہے لہذا 521 /3/5 برابر میٹر ہے جو مدت سفر ہے تو اگر کوئی شخص 92 کلومیٹر کے ارادے سے نکلے تو قصر کرے اللہ تعالی کا ارشاد ہے ” واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلاۃ ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا ” (پ ٤ سورہ نساء آیت ١٠١) کتبہ : مفتی برکت علی قادری مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول صفحہ ٢٢٩

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh