Fatwa #1601
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کورونا سے مرے ہوئے غیر مسلم لوگوں کی لاشوں کا اُن کے مذہب کے مطابق انتم سنسکار کرنے کا حکم
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
11,301
سوال (Question):
کورونا سے مرے ہوئے غیر مسلم لوگوں کی لاشوں کا اُن کے مذہب کے مطابق انتم سنسکار کرنے کا حکم
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کورونا سے مرے ہوئے غیر مسلم لوگوں کی لاشوں کا اُن کے مذہب کے مطابق انتم سنسکار کرنے کا حکم!!!
سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مسئلہ ذیل میں کہ موجودہ وقت میں کرونا مرض میں مبتلا ہوکر مرنے والے غیر مسلم مردوں کی آخری رسومات ان کے اپنے مذہب کے اعتبار سے کچھ مسلمان حضرات کر رہے ہیں یہ کہاں تک درست ہے اگر درست نہیں تو ان پر کیا حکم شرع ہے؟ ،بینوا توجروا المستفتی۔فیض الرحمن صدیقی علیمی ڈومریا گنج سدھارتھ نگر یوپی باسمہ تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوھاب اگر کوئی غیر مسلم مر جائے اور کوئی اس کا ہم مذہب نہ ہو جو اس کی میت کو ٹھکانے لگائے تو جیفۂ سگ کی طرح دفع عفونت و ضرر کے پیش نظر ایک کپڑا میں لپیٹ کر کسی گڑھے میں دبا دیں۔ فتاوی رضویہ میں ہے “اگر کفار میں بھی کوئی نہ ملے تو جیفۂ سگ کی طرح دفع عفونت کےلئے کسی گڑھے میں دبا دیں۔” (ج ۴ ص ۱۱۳) بہار شریعت میں ہے”کافر مردے کےلئے غسل و کفن نہیں بلکہ ایک چتھڑے میں لپیٹ کر تنگ گڑھے میں داب دیں یہ بھی جب کریں کہ اس کا کوئی ہم مذہب نہ ہو یا اسے لے نہ جائے ورنہ مسلمان ہاتھ نہ لگائے نہ اس کے جنازے میں شرکت کرے۔” (ج ۴ ص ۱۳۷) رہا کفار کی آخری رسومات کے مطابق مسلمانوں کا غیر مسلم مردہ کو جلانا تو یہ سخت ناجائز و حرام ہے کہ کفار کی مذہبی رسوم کو اپنانا حرام حرام سخت حرام کفر و ضلالت انجام ہے ارشاد باری تعالی ہے“وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ”(البقرۃ ۲۰۸) اور فرماتا ہے”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوا إِن تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ فَتَنقَلِبُوا خٰسِرِينَ”(آل عمران ۱۴۹) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ کسی مسلمان کےلئے یہ جائز نہیں کہ غیر مسلم میت کے کفن دفن میں شریک ہو اور اگر کہیں یہ صورت پیش آجائے کہ غیر مسلم میت کو کوئی اس کا ہم مذہب لے جانے والا نہ ہو تو مسلم کسی گڑھے میں دبا دیں اس کے مذہب کے اعتبار سے جلانا وغیرہ حرام ہے اور جو مسلمان ایسا کریں تو وہ فورًا توبہ و استغفار کریں اور آئندہ ایسے کام سے پرہیز کریں . واللہ تعالی اعلم کتبہ: محمد اختر حسین قادری صدر شعبۂ افتا دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی و قاضی شہر خلیل آباد یوپی ۱۸ رمضان المبارک ۱۴۴۲ھ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9