Fatwa #1452
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
کپڑے میں نجاست لگی ہے اور اس حال میں نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,069
سوال (Question):
کپڑے میں نجاست لگی ہے اور اس حال میں نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کپڑے میں نجاست لگی ہے اور اس حال میں نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟
الجوابــــــــــــــــــــــ اگر کپڑے میں لگی نجاست غلیظہ ہے اور ایک درہم سے زیادہ ہے تو اس کا پاک کرنا فرض ہے بغیر پاک کئے نماز پڑھ لیی تو ہو گی ہی نہیں ۔ اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا ۔ اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بغیر پاک کئے پڑھی تو مکروہ تحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اعادہ واجب ہے ۔ اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنت ہے . اور اگر نجاست خفیفہ ہے تو کپڑے کے جس حصہ میں لگی ہے اگر اس کی چوتھائی سے کم ہے مثلا دامن میں لگی ہے تو دامن کی چوتھائی سے کم، آستین میں لگی ہے تو آستین کی چوتھائی سے کم ، ایسے ہی ہاتھ میں اس کی چوتھائی سے کم ہے تو معاف ہے کہ اس سے نماز ہوجائے گی. اور اگر پوری چوتھائی میں ہے تو بغیر دھوئے نماز نہ ہوگی. ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 96 میں ہے. اور حضرت علامہ حصکفی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہیں ” وعفا الشارع عن قدر الدرھم وان کرہ تحریما فیجب غسلہ وما دونہ تنزیھا فیسن وفوقہ مبطل فیفرض” در مختار مع الشامی جلد اول صفحہ ٢٣٢ اور اسی کتاب کی اسی جلد کے صفحہ 213 پر نجاست خفیفہ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں ” وعفی دون ربع جمیع بدن وثوب ولو کبیرا ھو المختار ذکرہ الحلبی ورجحہ فی النھر علی التقدیر بربع المصاب کید وکم من نجاسۃ مخففۃ ١ھ. ملخصا. اور اگر بدن پر ایک درہم سے زائد نجاست لگی ہوئی ہے مگر کوئی ایسی چیز نہیں پاتا کہ جس سے نجاست دور کرے تو اسی حالت میں نماز پڑھنے سے ہو جائے گی. جیسا کہ عجائب الفقہ صفحہ 102 پر شرح وقایہ جلد اول صفحہ 134 کے حوالہ سے ہے ” عادم مزیل النجس صلی معہ ولم یعد ١ھ. اور جب کہ کپڑا چوتھائی سے کم پاک ہو اور نجاست دور کرنے کے لیے پانی وغیرہ نہ ہو اور دوسرا کپڑا ہو تو اس صورت میں ننگے نماز پڑھنے سے نجاست لگے ہوئے کپڑے میں نماز جائز ہی نہیں بلکہ اسی نجاست کے ساتھ پڑھنا افضل ہے جیسا کہ آج عجائب الفقہ صفحہ 102 پر شرح وقایہ اول مجیدی صفحہ 137 سے ہے ” ان صلی عاریا وربع ثوبہ طاھر لم تجز وفی اقل من ربعہ الافضل صلاتہ فیہ ١ھ. واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد عبد الحئی قادری
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9