صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1313 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کچھوچھہ شریف کے نیر کا پانی پینا اور اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,222

سوال (Question):

کچھوچھہ شریف کے نیر کا پانی پینا اور اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کچھوچھہ شریف کے نیر کا پانی پینا اور اس سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟

سوال : کچھوچھہ شریف میں حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ کے آستانہ کے بغل میں جو پانی جمع رہتا ہے لوگ اس میں غسل اور وضو کرتے ہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا پینا اور وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟بینوا و توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــ غسل اور وضو کا پانی ماء مستعمل ہے اور طاہر غیر مطہر ہے نجس نہیں. اگر حوض میں گر گیا تو حوض ناپاک نہ ہوگا جب خود ناپاک نہیں تو دوسرے کو ناپاک کیا کرے گا. اور حوض جبکہ دہ دردہ ہو تو نجاست گرنے سے بھی ناپاک نہ ہوگا. اور ہر وہ گڈھا جس کی پیمائش مربع سو ہاتھ ہو وہ بڑا حوض ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 48 پر ہے اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ 18 میں ہے ” الماء الراکد اذا کان کثیر فھو بمنزلۃ الجاری لا یتنجس جمیع بوقوع النجاسۃ فی طرف منہ الا ان یتغیر لونہ او طعمہ او ریحہ ” ١ھ. اور اسی صفحے پر ہے ” ان الغدیر العظیم کالجاری لا یتنجس ” ١ھ. اور ایسا ہی در مختار مع شامی جلد اول صفحہ 190 پر ہے. اور حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالی عنہ کے آستانہ مقدسہ کی بغل میں جو پانی جمع رہتا ہے وہ دہ در دہ سے کہیں زیادہ ہے لہذا جہاں نجاست کی وجہ سے رنگ و بو یا مزہ نہ بدلا ہو وہاں کے پانی سے وضو اور غسل کرنا اور اس کا پینا بھی جائز ہے. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی محمد ہارون رشید قادری کمبولوی گجراتی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجـــــــــــدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh