صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1455 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کہا طلاق لکھو کاتب نے تین طلاق لکھ دی تو؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,387

سوال (Question):

کہا طلاق لکھو کاتب نے تین طلاق لکھ دی تو؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کہا طلاق لکھو کاتب نے تین طلاق لکھ دی تو؟ | شوہر کا بیان کہ طلاق نامہ پڑھ کر سنایا نہیں گیا کیسا ہے؟ | غیر کے لکھے ہوئے طلاق نامہ کو شوہر جائز کر دے تو طلاق پڑ جاتی ہے ؟

مسئلہ:- از : نصیب علی ، ستھری ، شمس پور ، بستی کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ نصیب علی نے اپنی مدخولہ بیوی کے بارے میں ایک غیر مسلم سے کہا کہ میں اپنی بیوی کو جواب دیتا ہوں لکھ دو اس نے کہا کہ جواب لکھوں کہ طلاق لکھوں؟تو نصیب علی نے کہا کہ طلاق لکھو اس پر غیر مسلم نے نصیب علی کی بیوی کو تین طلاق لکھا۔ نصیب علی کا بیان ہے کہ طلاق نامہ پڑھ کر ہمیں نہیں سنایا اور ہم سے اس پر دستخط لیا پھرجب بعد میں طلاق نامہ پڑھا تو پڑھنے والے نے بتایا کہ اس میں تین طلاق لکھی ہوئی ہے تو نصیب علی نے کہا کہ ہم نے طلاق دے دیا چاہے۔ ایک مرتبہ لکھا ہو چاہے تین مرتبہ لکھا ہو۔ سوال یہ ہے کہ نصیب علی کی بیوی پر طلاق پڑی یا نہیں ؟ اگر پڑی تو کون سی طلاق؟ نصیب علی اگر پھر اس عورت کو رکھنا چاہیے تو کیا صورت ہے ؟ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں نصیب علی کی بیوی پر طلاق مغلظہ پڑگئی اس لیے کی کاتب کے پوچھنے پر کہ “جواب لکھوں کہ طلاق لکھوں نصیب علی کا یہ کہنا کہ طلاق لکھو پھر طلاق نامہ تیار ہوجانے پر نصیب علی کا دستخط کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ طلاق نامہ نصیب علی ہی کے حکم سے لکھا گیا ۔ اور جب اسے پڑھ کر بتایا گیا ہے تو اس میں تین طلاق لکھی ہے تو اس کے جواب میں نصیب علی کا یہ قول ” ہم نے طلاق دے دیا چاہے ایک مرتبہ لکھا ہو چاہے تین مرتبہ لکھا ہو” اس سے ثابت ہوا کہ وہ تین طلاق سے راضی رہا۔ سیدنا علی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ عن تحریر فرماتے ہیں” فضولی شخص جیسے شوہر کی طرف سے امر یا اذن تحریر نہیں یا نہ رہا ہاں اگر وہ عورت کی طلاق لکھ لائے تو اس کا نفاذ اجازت شوہر پر موقوف رہتا ہے ۔ اگر وہ اس کے مضمون پر مطلع ہوکر اس مضمون کو نافذ کر دے مثلا صراحتاً کہہ دے کہ میں نے جائز کیا یا کوئی ایسا فعل کرے جو نافذ کرنے پر دلیل ہو مثلاً اس پر اپنا دستخط یا مہر کردے تو وہ تحریر نافذ ہوجاتی ہے ۔اور گویا خود شوہر کی تحریر قرار پاتی ہے۔ اھ ملخصا” (فتاوی رضویہ جلد پنجم صفحہ ٧٢٠) اور شامی جلد دوم صفحہ ٤٦٥ میں ہے :” لو قال للكاتب اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وان لم يكتب. ھ” اور فتاوی بزازیہ مع عالمگیر جلد چہارم صفحہ 185 پر ہے :” کتب غیر الزوج کتاب الطاف و قرأہ الزوج فأخذہ وختم عليه فهذا بمنزلة كتابة بنفس. “ لہذا جب غیر کے لکھے ہوئے طلاق نامہ کو شوہر جائز کر دے تو طلاق پڑ جاتی ہے تو یہاں تو نصیب علی نے خود لکھنے کا حکم دیا اور پھر اس پر راضی رہا تو بدرجہ اولی طلاق پڑگئی۔ اب نصیب علی بغیر حلالہ اپنی بیوی کو نہیں رکھ سکتا۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ نصیب علی کی بیوی عدت کے بعد دوسرے سے نکاح صحیح کرے اور وہ دوسرا شوہر اس سے کم از کم ایک بار ہمبستری کرنے کے بعد طلاق دے یا مر جائے تو پھر عدت گزرنے پر نصیب علی اس سے نکاح کر سکتا ہے اس سے پہلے ہرگز نہیں کر سکتا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:” فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.” (پ۲ سورہ بقرہ ، آیت ۲۳۰) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ الجواب الصحیح: مفتی جلال الدین أحمد الامجدی کتبہ: مفتی محمد عبد الحی قادری

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh