صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1393 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کہا میں تجھے رکھوں تو میں ماں سے بدکاری کروں تو کیا حکم ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,656

سوال (Question):

کہا میں تجھے رکھوں تو میں ماں سے بدکاری کروں تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کہا میں تجھے رکھوں تو میں ماں سے بدکاری کروں تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ:- از: ذکی اللہ ، جگر ناتھ پور، بستی سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید اور اس کی بیوی ہندہ کے درمیان جھگڑا ہوا تو زید نے ہندہ کو مارا ہندہ نے زید کو گالی دیتے ہوئے مارا اور اس کی داڑھی پکڑ کر نوچ لیا اس پر زید نے کہا کہ اگر میں تجھے رکھوں تو اپنی ماں سے بدکاری کروں۔ کچھ دنوں بعد زید و ہندہ میاں بیوی کی طرح رہنے لگے تو ان کے لیے کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ زید کا اپنی بیوی ہندہ سے یہ کہنا کہ ” اگر میں تجھ کو رکھوں تو اپنی ماں سے بدکاری کروں” یہ الفاظ طلاق سے نہیں اور نہ ہی عند الشرع قسم ہے ۔ ایسا ہی فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ 186 میں ہے لہٰذا ہندہ پر کوئی طلاق نہیں ہوئی ہے اور نہ زید پر شرعاً کوئی کفارہ لازم ہوا۔ البتہ جملہ مذکورہ سے زید نے اپنی ماں کی توہین کی ہے جس کے سبب وہ سخت گناہ گار ہوا علانیہ توبہ و استغفار کرے اور ماں اگر زندہ ہے تو اس سے معافی طلب کرے۔ اور داڑھی کی توہین بالاجماع کفر ہے ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد نہم نصف اول صفحہ ۳۰ پر ہے۔ اور داڑھی نوچ لینا یقیناً اس کی توہین ہے لہذا ہندہ سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہے اس پر بھی لازم ہے کہ علانیہ توبہ و استغفار کرے اور پھر سے اس کا نکاح پڑھایا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ماخوذ : از فتاوی فقیہ ملت

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh