صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1408 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

کہا میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر کچھ دیر رک کر کہا کہا طلاق طلاق

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,246

سوال (Question):

کہا میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر کچھ دیر رک کر کہا کہا طلاق طلاق

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کہا میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر کچھ دیر رک کر کہا کہا طلاق طلاق تو کونسی طلاق پڑی ؟ مذکورہ صورت میں طلاق رجعی کا فتوی دینا کیسا ہے ؟

مسئلہ:- از: محمد مرتضی خان رضوی ، سورت ، گجرات۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ فضلو خان صاحب نے اپنی بیوی سارہ بیگم کو غصے میں اس طرح طلاق دی کہ ” میں نے تجھ کو طلاق دی ” پھر اسی تیور کے ساتھ ذرا وقفے سے دوبار اور طلاق طلاق کہا یعنی میں نے تجھ کو طلاق دی۔ طلاق طلاق اس کے بعد یہ دونوں الگ رہنے لگے اور عورت نے عدت شروع کردی ۔ اسی درمیان ایک مفتی صاحب سے استفتاء کیا گیا تو انہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ اگر زید کا یہ بیان سچ ہو تو اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوئی اور آخر کے دو لفظ نسبت و اسناد نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوئے۔ لہذا زید اپنی بیوی ہندہ کو عدت میں رجعت کرکے اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے۔ ( خلاصئہ جواب) پس اس کے بعد مذکور شخص نے اس سے رجعت کر لے اور دونوں میاں بیوی بن کر ساتھ رہنے لگے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ فتویٰ غلط ہے یا صحیح ؟ اور ان دونوں کے بغیر حلالہ زوجین بن کر رہنا جائز ہے یا نہیں؟ فقہ حنفی کے حوالوں سے جواب مرحمت فرمائیں۔ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــــــــ اعلی حضرت امام احمد رضا برکاتی محدث بریلوی رضی اللہ عنہ رب القوی سے دریافت کیا گیا کہ ” محمد مظفر کا اپنی والدہ سے جھگڑا ہو رہا تھا اس کی والدہ نے کہا کی اگر اپنی بیوی کو نہ چھوڑو گے تو تم سور کھاؤ اسی طرح تین مرتبہ بولی ۔ مظفر نے کہا طلاق دیتے ہیں پھر اس نے بلا قصد غصہ کے ساتھ اپنی والدہ کے سامنے کہا طلاق طلاق طلاق بغیر مخاطب کرنے کو کسی کو اب شرعاً صورت مسؤلہ میں مظفر کی بیوی پر طلاق پڑے گی یا نہیں؟ اعلی حضرت نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا کہ ” تین طلاقیں واقع ہوگئیں بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔” ( فتاویٰ رضویہ جلد پنجم صفحہ ٦١٧) اس صورت میں بھی طلاق کی نسبت عورت کی طرف نہیں مگر اعلی حضرت نے تین طلاق کے وقوع کا حکم فرمایا اس لئے کہ اگرچہ لفظ میں نسبت نہیں ہے مگر نیت میں نسبت ضرور ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں شوہر نے جب کہ پہلے جملہ میں بیوی سے کہا میں نے تجھ کو طلاق دی تو آخری دو طلاقوں میں اگرچہ لفظ میں نسبت نہیں مگر قرینہ سے ثابت ہے کہ نیت میں ان دو طلاقوں کی نسبت بھی ضرور اسی بیوی کی طرف ہے۔ اگر شوہر سے اسی وقت پوچھا جاتا کہ تم نے اپنی بیوی کو کتنی طلاق دی ہے وہ یقینا تین ہی بتاتا ۔ خصوصا اس حال میں کہ آج کل لوگ عام طور پرتین سے کم طلاق دیتے ہی نہیں ہیں۔ خلاصہ یہ کہ مذکورہ صورت میں طلاق رجعی پڑنے کا فتوی دینا صحیح نہیں۔ میاں بیوی پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں کہ اب بغیر حلالہ وہ عورت شوہر اول کے لئے حلال نہیں۔ خدائے تعالی کا ارشاد ہے: ” فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.” (پ٢سورہ بقررۃ ، آیت ٢٣٠) اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہ ہو تو سب مسلمان ان کا بائیکاٹ کریں ورنہ ان پر فاسقوں جیسا عذاب ہوگا ۔اللہ تعالی کا فرمان ہے :” كانوا لا يتناهون عن منكر فعلوه لبئس ما كانو يفعلون. “ (پ ٦ سورہ مائدہ، آیت ۷۸) واللہ تعالیٰ اعلم۔۔ الجواب الصحیح: جلال الدین أحمد الامجدی۔ کتبہ: محمد ابرار احمد امجــــــــدی برکاتی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh